رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں شادی اور تقربیات میں اسراف پر پابندی


شادی پر کھانے کی مرغن کھانوں کی دعوت۔ تصاویر حبیب اللہ نقاش

حکم نامے کے مُطابق لڑکی کی شادی پر زیادہ سے زیادہ پانچ سو مہمانوں کو دعوت دی جا سکتی ہے جبکہ لڑکے کی شادی کے لئے چار سو کی حد مقرر کردی گئی ہے۔ نیز مہمانوں کے لئے سات سے زیادہ گوشت اور یا سبزیوں کے پکوا ن تیار نہیں کئے جا سکتے ہیں۔

یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے منگل کو ایک حکم کے ذریعے شادی، ولیمہ اور دوسری سماجی تقربیات میں اسراف، فضول خرچی اور متعلقہ سرگرمیوں میں تجاوز کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

جموں میں ایک نیوز کانفرنس میں صوبے کے وزیرِ خوراک، سِول سپلائز اور امورِ صارفین چوہدری نثار علی نے اعلان کیا کہ نئے گیسٹ کنٹرول آرڈر کا إطلاق سرکاری تقربیات پر بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکم نامے پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرائیں تاکہ اِن تقربیات کے دوران کھانے پینے کی چیزوں کے غیر ضروری اور غیر دانش مندانہ استعمال پر پابندی لگا کر، بالخصوص آنے والے شادیوں کے موسم میں غذائی اشیاء کی قلت اور گراں بازاری کو روکا جا سکے۔

حکم نامے کے مُطابق لڑکی کی شادی پر زیادہ سے زیادہ پانچ سو مہمانوں کو دعوت دی جا سکتی ہے جبکہ لڑکے کی شادی کے لئے چار سو کی حد مقرر کردی گئی ہے۔ نیز مہمانوں کے لئے گوشت یا سبزیوں کے زیادہ سے زیادہ سات پکوان تیار کیے جا سکتے ہیں۔

مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ دو میٹھے پکوان یا آئس کریم پیش کی جائے گی۔

منگنی کے موقع پر ایک سو سے زیادہ افراد کی میزبانی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اِن تقریبات میں لاؤڈ اسپیکروں اور ایمپلی فائرز کے استعمال اور آتش بازی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

لیکن عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جاری کئے گئے اسی طرح کے حکم ناموں کی طرح تازہ گیسٹ کنٹرول آرڑر بھی علاقے بالخصوص وادئ کشمیر میں شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جانے والی شاہ خرچیوں، اسراف اور نمائش پر پابندی لگانے میں ناکام ہو جائے گا۔​

اس سے قبل ستمبر 2005 میں بھی صوبائی حکومت نے گیسٹ کنٹرول آرڑر جاری کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ اس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی مگر صورت حال جوں کی توں رہی۔ لیکن چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے میں اِنتہائی سنجیدہ ہیں۔ اس کی خلاف ورزی کر نے والوں کو قانون کے شکنجے میں لاتے وقت کسی سے اس کی حیثیت کے پیش نظر کوئی رعائت نہیں برتی جائے گی۔

حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ گیسٹ کنٹرول آرڑر کو جاری کرنے کو ضرورت اس لئے بھی محسوس کی گئی کہ شادیوں کے موسم کے دوران، جو موسمِ بہار کے ساتھ ہی شروع ہوگا، وادئ کشمیر میں بکرے کے گوشت کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

محکہ خوراک کے اعدادوشمار کے مُطابق، مقامی پیداوار کے علاوہ دِلی اور بھارت کی دوسری منڈیوں سے سالانہ 400 مِلین ہندوستانی روپئے کی مالیت کی بھیڑ بکریاں وادئ کشمیر میں درآمد کی جاتی ہیں۔

وازوان کہلانے والی تقریبات میں عام طور پر سات سے اکیس اور بعض اوقات خاص طور پر جب دلہا اور اس کے ساتھ چالیس سے ڈیڑھ سو تک باراتیوں کی تواضع کے لیے اعلیٰ قسم کے کھانے تیار کرائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ مہمانوں کی خاطر مدارات قیمتی مشروبات، خشک میوہ جات اور مٹھائیوں سے کی جاتی ہے۔ ان شاہ خرچیوں اور اسراف پر ماضی میں سماجی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں اور قائدین بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں، لیکن لوگوں پر اس کا اثر کم ہی ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG