رسائی کے لنکس

آٹزم میں مبتلا بچوں کی زندگی بدلنے والا روبوٹ


آٹزم میں مبتلا بچوں کے ساتھ کھیلنے اور باتیں کرنے والا روبوٹ کاسپر۔ فائل فوٹو

آٹزم میں مبتلا بچوں کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ ٹریکس کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے میں کاسپر کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ہارٹفورڈ شائر نے ’ کاسپر‘کے نام سے ایک روبوٹ تیار کیا ہے جو گانے گا سکتا ہے، کھانا کھانے کی نقل کر سکتا ہے۔ دف بجا سکتا ہے، اپنے بالوں میں کنگھا کر سکتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دماغی مرض آٹزم میں مبتلا بچوں کے ساتھ کھیل سکتا ہے اور بات چیت کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی نے یہ روبوٹ شمالی لندن میں واقع ایک اسکول کو فراہم کیے ہیں جہاں آٹزم کے بچے زیر تعلیم ہیں۔

اگر کوئی بچہ’ کاسپر ‘کو تنگ کرتا ہے یا اسے مارتا ہے تو وہ رونے کی آواز نکالتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے چوٹ لگی ہے۔

جب بچے کاسپر سے کھیل رہے ہوتے ہیں تو ایک نفسیاتی ماہر وہاں موجود ہوتا ہے اور ایسے موقع پر وہ بچوں کو سمجھاتا ہے کہ روبوٹ کو مارنے کی بجائے اس کے پاؤں میں گدگدی کریں۔

جب کاسپر کو گدگدی کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ ایسا کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔

شمالی لندن نے اس سکول میں زیر تعلیم تقریباً 170 بچے آٹزم کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اور کاسپر نامی روبوٹ ان بچوں کو سماجی زندگی میں ڈھالنے کے لیے مدد فراہم کر رہا ہے۔

آٹزم کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نیشنل آٹسٹک سوسائٹی کے ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں آٹزم میں مبتلا بچوں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ ہے۔ یہ تنظیم اتوار کے روز آٹزم کا عالمی دن منا رہی ہے اور یونیورسٹی آف ہارٹفورڈ شائر چاہتی ہے کہ اس کا روبوٹ کاسپر زیادہ سے زیادہ بچوں کی مدد کرے۔

یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی پروفیسر کرسٹین ڈاٹن ہان کا کہنا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ آٹزم میں مبتلا ہر بچے کے لیے گھر یا اسکول یا اسپتال میں ایک کاسپر موجود ہو۔

کاسپر آٹزم میں مبتلا بچوں کو معاشرے میں ضم کرنے کے لیے کتنا کار آمد ثابت ہو سکتا ہے، اس بارے میں ہارٹفورڈ کمیونٹی این ایچ ایس ٹرسٹ کے تحت دو سالہ طبی تجربات کیے جا رہے ہیں۔ ان کی کامیابی کی صورت میں برطانیہ بھر کے اسپتالوں میں آٹزم کے شعبے میں کاسپر بچوں کھیلتے کودتے اور باتیں کرتے دکھائی دیں گے۔

آٹزم میں مبتلا بچوں کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ ٹریکس کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے میں کاسپر کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔ ادارے کے ایک ماہر نے بتایا کہ ہم چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھیوں کے مل کر کھانے کی تربیت دے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کاسپر کا تجربہ کافی بہتر رہا ہے ۔ بچے اسے کھلانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس طرح وہ ساتھیوں کے بھی قریب ہونے لگتے ہیں۔ ہم اس جیسے کئی اور پروگراموں پر عمل کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹزم میں مبتلا بچوں کو دوسرے لوگوں کے ساتھ بات کرنے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔ یہاں بھی کاسپر ان کی مدد کرتا ہے اور بچے اس سے بات چیت کرکے اپنی اس کمزوری پر آہستہ آہستہ قابو پا لیتے ہیں۔

نیشنل آرٹسٹک سوسائٹی کی ڈائریکٹر کیرل پاوی نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ آٹزم میں مبتلا بہت سے بچے ٹیکنالوجی کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، خاص طور وہ ٹیکنالوجی جو انہیں کچھ بتائے، اس طرح یہ بچوں اور بڑوں سے رابطے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ ان نئی ٹیکنالوجیز میں شامل ہے جو آٹزم میں مبتلا افراد کی زندگیوں میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG