رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کا دفاع


جان کیری یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو شام کے اس حصے میں جہاں القاعدہ اور داعش سے منسلک جنگجو سرگرم نہیں، وہاں روسی طیاروں کی بمباری پر "گہری تشویش" ہے۔

روس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ شام میں اس کی فضائی کارروائیوں کا ہدف داعش کے جنگجوؤں کے علاوہ کوئی اور ہے۔

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ یہ سب بے بنیاد افواہیں ہیں۔

اس سے قبل جان کیری یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو شام کے اس حصے میں جہاں القاعدہ اور داعش سے منسلک جنگجو سرگرم نہیں، وہاں روسی طیاروں کی بمباری پر "گہری تشویش" ہے۔

انھوں نے یہ بیان روس کی میزبانی میں اقوام متحدہ کے اجلاس برائے انسداد دہشت گردی سے خطاب کے دوران دیا تھا۔

روس نے رواں ہفتے ہی روس نے شام کے علاقے حمص میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں۔

روس کئی ہفتوں تک شام میں لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی ساز و سامان پہنچا رہا تھا جو بظاہر شام حکومت کی مدد کے لیے اس کی کوششوں میں اضافہ معلوم ہوتا تھا۔

روس کے اس اقدام نے اسے امریکہ اور ان دیگر عالمی طاقتوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جو یہ سمجھتی ہیں کہ شام میں بدامنی کو سیاسی تبدیلی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان نیویارک میں ملاقات بھی ہوئی جس میں جان کیری کے بقول انھوں نے شام کے تنازع سے متعلق تفصیلی بات چیت کی ہے جس میں متعدد پہلو سامنے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ "متعدد خیالات پر مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا۔ مجھے اس بارے میں واشنگٹن سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور لاوروف بھی ان کے بارے میں روسی صدر ولادیمر پوٹن سے تبادلہ خیال کریں گے۔"

لاوروف کا کہنا تھا کہ "ہم سب شام کو جمہوری، متحد اور سیکولر چاہتے ہیں لیکن یہ کس طرح ہوگا اس کی جزیات میں سے بعض پر اختلاف پایا جاتا ہے۔"

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ جلد ہی دونوں ملکوں کے فوجی عہدیدار ملاقات کریں گے تاکہ شام میں جاری لڑائی کے دوران ایک دوسرے سے الجھنے سے بچا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG