رسائی کے لنکس

logo-print

بیجنگ میں سالانہ امریکہ چین اسٹریٹجک مذاکرات


کیری نے اس خطے میں چین کی جارحانہ توسیع پسندی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ "ہم بحیرہ جنوبی چین کا پرامن حل دیکھنے کے خواہاں ہیں اور ہم اس بات کے مخالف ہیں کوئی ملک اپنے دعوؤں کو (ثابت کرنے کے) لیے کوئی یک طرفہ  قدم اٹھائے۔"

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بیجنگ میں امریکہ چین اسٹریٹیجک اور اکنامک ڈائیلاگ کے آغاز کے موقع پر خطے کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ متنازع بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سفارتی حل تلاش کریں۔

کیری نے اس خطے میں چین کی جارحانہ توسیع پسندی کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ "ہم بحیرہ جنوبی چین کا پرامن حل دیکھنے کے خواہاں ہیں اور ہم اس بات کے مخالف ہیں کوئی ملک اپنے دعوؤں کو (ثابت کرنے کے) لیے کوئی یک طرفہ قدم اٹھائے"۔

چین کے صدر شی جن پنگ جنہوں نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کو زیادہ بااعتماد تعلقات کے لیے پیش رفت کرنا ہو گی۔

شی نے متنازع معاملات سے نمٹنے اور "اسٹریٹیجک ( معاملات کے بارے میں) غلط اندازوں" سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "چین اور امریکہ کو باہمی اعتماد کو بڑھانا ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ اس خطے کے تنازعات کے حل میں اور وقت لگ سکتا ہے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’بحرالکاہل کا وسیع خطہ ایک تعاون کا پلیٹ فارم ہونا چاہیئے نا کہ مسابقت کا خطہ ہو۔‘‘

اعلیٰ سطحی بات چیت شروع ہونے سے پہلے جن کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو وسیع کرنا ہے کیری نے چین پر زور دیا کہ وہ "یک طرفہ" طور بحیرہ جنوبی چین کے کچھ حصوں پر فضائی دفاعی شناختی زون 'اے ڈی آئی زیڈ' کو قائم کرنے کا اعلان نا کرے۔

کیری نے اتوار کو منگولیا کے وزیر خارجہ لنڈیگ پیوروسیورن سے ملاقات کے بعد الان باتر میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ "ہم ایس سی ایس (بحیرہ جنوبی چین) میں اے ڈی آئی زیڈ قائم کرنے کو ایک اشتعال انگیز اور عدم استحکام کا باعث بننے والا عمل تصور کریں گے۔"

اس 'اے ڈی آئی زیڈ' زون کے تحت مشرقی بحیرہ چین کے اوپر پرواز کرنے والے تمام غیر فوجی جہازوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس راستے سے گزرنے سے پہلے چینی حکام کے ساتھ پہلے اپنا اندارج کروائیں۔

چین نے دو سال قبل یہ زون قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکہ نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کیری کا بیان سنگاپور میں ایشیا کی سلامتی سے متعلق منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد سامنے آیا جس میں شریک نمائندوں نے اس بارے میں بھی بحث کی کہ آیا کہ چین اے ڈی آئی زیڈ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے یا نہیں۔

کیری نے کہا کہ ایسے کسی عمل سے خودبخود کشیدگی میں اضافہ ہو جائے گا اور ان کے بقول چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین کے علاقائی تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے چین کے عزم کے بارے میں شک و شبے کا اظہار کیا جائے گا۔

چین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کو امریکی وزیر دفاع کی طرف سے ایک روز قبل دیے گئے بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر چین بحیرہ جنوبی چین کے متنازع جزیروں میں اپنی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھے گا تو وہ "ایک بڑی دیوار بنا کر خود کو تنہا" کر لے گا۔

پیپلز لیبریشن آرمی کے ایڈمرل سن جیانگیو نے کہا کہ "ہم ماضی میں بھی تنہا نہیں تھے، ہم اب بھی تنہا نہیں اور نا ہی مستقبل میں ہمیں تنہا کیا جا سکتا ہے۔"

بیجنگ بحیرہ جنوبی چین کے ایک بڑے حصے پر ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور اس متنازع خطے پر فلپائن اور ویت نام بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے کے مختلف حصوں پر کل چھ ملک ملکیت کے دعویدار ہیں۔

XS
SM
MD
LG