رسائی کے لنکس

logo-print

مجھے یاد آیا......فاطمہ جناح کی شفقت سے محروم رہ گیا


انعامی شیلڈ کے ساتھ سکول کے زمانے کی ایک یادگار تصویر

اس سے پہلے ایک بلاگ میں اپنی سکول کی تقریروں کا ذکر کیا تھا، جو میرے بہت پیارے اور شفیق استاد صغیر احسن مرحوم لکھا کرتے تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی واپس چلے گئے اور اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگے۔ برسوں بعد ایک مرتبہ میں کراچی ٹی وی گیا، جب خبریں پڑھ کر باہر نکل رہا تھا تو نیوز روم سے ایک شخص آیا کہ آپ کا فون ہے، میں نے سوچا کہ شاید کوئی کراچی کا پرستار ہو گا۔

ادھر سے کسی نے کہا، ابے چغد (بے وقوف) تم یہاں کیا کر رہے ہو، میں نے کہا، صغیر صاحب، اسلام و علیکم، بہت حیران ہوئے کہنے لگے ابے اتنے عرصے بعد کیسے پہچان لیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے علاوہ مجھے آج تک کسی اور نے چغد نہیں کہا۔ بہت ہنسے اور دعائیں دیں۔

سکول میں اس زمانے میں بڑے بڑے سیرت کے جلسے اور تقریری مقابلے ہوتے تھے مجھے اے ٹی ایم مصطفی، وزیرِ تعلیم اور مولوی تمیزالدین ،سپیکر قومی اسمبلی کے علاوہ کئی وزراء سے انعامات حاصل کرنے کا اعزاز ملا۔ یہ تصویر اے ٹی ایم مصطفی کی ہے،پیچھے ہیڈ ماسٹر شیخ حبیب احمد کھڑے ہیں۔ اور پھر وہ تاریخی دن بھی آیا جب ایک تقریر مجھے محترمہ فاطمہ جناح کے سامنے کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ہمارے سکول کی جانب سے ایک بہت بڑے جلسے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، شہر کے مشہور قاری، نعت خواں اور معزز شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا، بڑی دھوم تھی کہ محترمہ فاطمہ جناح تشریف لا رہی ہے۔ ہم بھی اپنے ٹیچرز سے باتیں سن رہے تھے، لیکن ہمیں کوئی لفٹ نہیں تھی، بس سوچ رہے تھے کہ رات گئے جلسے میں کیسے جائیں اور محترمہ کو دیکھیں؟ اچانک سکول بورڈ کی میٹنگ میں ہیڈ ماسٹر صاحب نے تجویز دی کہ کیوں نہ سکول کی نمائندگی کے لئے خالد سے تقریر کروائی جائے۔ سب نے متفقہ فیصلہ دے دیا اور ہمیں تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔

پھر وہ دن آن پہنچا جب لیاقت باغ کے وسیع میدان میں بہت بڑا اجتماع تھا، سٹیج پر سکول اور انجمن فیض اسلام کے عہدیداروں کے ہمراہ کرسی صدارت پر محترمہ فاطمہ جناح تشریف فرما تھیں، پر نور چہرہ، سفید ریشمی بال اور سفید لباس کے ساتھ سفید دوپٹّہ، لگتا تھا کہ آسمان سے کوئی پری اتر آئی ہے۔

بہت سے لوگ تقریریں کر رہے تھے، ہمیں بھی بلایا گیا۔ اس وقت تک ہم کافی ماہر ہو چکے تھے اور تقریر بھی خوب یاد تھی جم کر بولے اور داد وصول کی۔

رات کافی بیت چکی تھی اور جلسہ ابھی جاری تھا اور چونکہ ہم تنہا آئے تھے اس لئے ہم تو تقریر کے بعد گھر کی طرف روانہ ہو گئے ادھر محترمہ جب صدارتی خطبے کے لئے آئیں تو انہوں نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے جو ایک خوبصورت تقریر کر رہا تھا نام پکارا گیا لیکن ہم وہاں ہوتے تو آتے۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں اس بچے کے لئے پچاس روپے انعام کا اعلان کرتی ہوں اور ہیڈ ماسٹر صاحب کی ذمے داری لگائی کہ آپ اسے خود اپنے ہاتھ سے دیں گے اور وہ جو فرمائش کر ے اسے خرید کر دیں۔

دوسرے دن اخبار جنگ نے سٹیج پر بولتے ہوئے میری تصویر کے ساتھ فاطمہ جناح کے یہ الفاظ رقم کئے کہ (لگتا تھا کہ ننھے سے جسم میں کوئی بڑی روح بول رہی ہے)۔

میرے لئے انکے یہ الفاظ اور انعام انتہائی تاریخی اور غیر معمولی اعزاز تھا۔

دوسرے دن سکول پہنچے تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے بلا بھیجا کہا کہ آپ کے لئے ایک انعام ہے مگر کسی بڑے کو لائیے، پھر ملے گا۔

والد صاحب ایسے بکھیڑوں میں پڑتے نہیں تھے اس لئے انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو ذمے داری دے دی۔

لہٰذا ہمارے چچا ہمارے ساتھ گئے تو شیخ حبیب صاحب نے ان کو مبارکباد دی اور کہا کہ فاطمہ جناح نے خالد کے لئے پچاس روپے کا انعام دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس کی مرضی کا کوئی تحفہ خرید کر دیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی رسید ہمیں لا کر دیں جو ہم محترمہ کو بھیجیں گے۔

آپ اندازہ کیجئے اس وقت ایک تولہ سونا تقریباً سو روپے میں آ جاتا تھا، تو یہ آدھے تولے سونے کی قیمت تھی۔ لیکن مالیت سے بڑھ کر یہ انعام بے مول تھا کیونکہ یہ بانیء پاکستان محمد علی جناح کی بہن کا عطا کردہ تھا۔

بہر حال ہم نے اپنی خواہش کے مطابق ایک کالے سفید چیک کا کوٹ اور کالی وورسٹڈ کی پتلون بنوائی اور کالج کے زمانے تک بڑے ذوق و شوق سے پہنی۔

اگر آپ نے دلیپ کمار کی فلم انداز دیکھی ہے تو اسی سٹائل کا کوٹ، پتلون وہ پہنے ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG