رسائی کے لنکس

logo-print

قندوز میں لڑائی جاری، نیٹو فوجی بھی مدد کے لیے پہنچ گئے


منگل کی شب طالبان نے قندوز کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے بڑا حملہ کیا تھا لیکن افغان سکیورٹی حکام کے مطابق امریکی فوج کی فضائی کی کارروائی کی مدد سے شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔

افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں بدھ کو بھی طالبان جنگجوؤں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جب کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کی اسپیشل فورسز کی بھی بدھ کو قندوز کے قریب شدت پسندوں سے لڑائی ہوئی ہے۔

ایک ترجمان کے مطابق اسپیشل فورسز قندوز کے ہوائی اڈے کے قریب ایک مشن پر تھیں۔ شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد سینکڑوں افغان فوجی ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔

اتحادی افواج کے ترجمان کرنل برائن ٹرائبس نے کہا ہے ’’اسپیشل فورسز میں فوجی مبصر شامل ہیں جو افغان فورس کو ہدایات کی فراہمی کے علاوہ اُن کی مدد کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ قندوز میں موجود نیٹو فورسز میں شامل اہلکاروں کا تعلق کس ملک سے ہے۔

واضح رہے طالبان نے پیر کو قندوز شہر پر مختلف اطراف سے ایک بڑا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ افغانستان میں 2001ء میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد گزشتہ 14 سالوں میں شدت پسندوں کو ملنے والی یہ سب سے بڑی کامیابی تھی۔

منگل کی شب طالبان نے قندوز کے ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے بڑا حملہ کیا تھا لیکن افغان سکیورٹی حکام کے مطابق امریکی فوج کی فضائی کی کارروائی کی مدد سے شدت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔

اُدھر افغان فورسز کے سینکڑوں اہلکار قریبی صوبے بغلان میں رکے ہوئے ہیں کیوں کہ طالبان جنگجوؤں نے ریت کی بوریاں اور پتھر رکھ کر سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے راستوں میں بارودی سرنگیں بھی بچھائی ہوئی ہیں۔ اس لیے مزید کمک کو قندوز پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

طالبان کے علاقائی کمانڈر نے تسلیم کیا کہ اُن کے جنگجو ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھالنے میں ناکام ہوئے ہیں لیکن کہا کہ اب بھی شہر پر اُن کا قبضہ برقرار ہے۔

امریکی جنگی جہازوں کے ذریعے منگل کو افغان فوجیوں کی مدد کے لیے فضائی کارروائی کی گئی۔ امریکہ کی زیر قیادت نیٹو افواج کے ترجمان کے مطابق پہلی فضائی کارروائی ’’اتحادی اور افغان فورسز کو درپیش خطرے کے خاتمے کے لیے کی گئی۔‘‘

جب کہ دوسری فضائی کارروائی رات گئے قندوز کے ہوائی اڈے کے قریب کی گئی، جہاں منگل کی شب شدید لڑائی ہوئی۔

افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق فضائی کارروائیوں میں قندوز کے لیے طالبان کا فرضی گورنر اپنے 15 ساتھیوں سمیت مارا گیا لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

افغانستان صدر اشرف غنی نے منگل کو بتایا کہ افغان فورسز کو صوبہ قندوز میں کامیابی ملی ہے اور کچھ سرکاری عمارتوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا گیا ہے۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ طالبان شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس سے افغانستان کی فورسز کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔ اُن کے بقول فضائی اور زمینی کارروائیوں کے باعث دشمن کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

صدر اشرف غنی نے قوم سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز پر یقین رکھیں جو اُن کے بقول بہت جلد قندوز کا کنٹرول سنبھال کر علاقے میں امن قائم کر دیں گی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا جس میں کہا گیا کہ جنگجو بنیکوں، دکانوں، سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگان‘ نے کہا ہے کہ قندوز میں صورت حال بدستور بدل رہی ہے تاہم افغان سکیورٹی فورس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کک نے کہا کہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں ایسے چیلنجوں کا افغان فورسز نے مقابلہ کیا اور اب بھی وہ ایسا ہی کر رہی ہیں۔

اُنھوں نے طالبان کی اس پیش قدمی کو افغان سکیورٹی فورسز کے لیے ایک واضح دھچکا قرار دیا۔

قندوز میں ہونے والی لڑائی میں تاحال ہلاکتوں کی تعداد واضح نہیں ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق اسپتالوں میں 200 زخمیوں کو لایا گیا جب کہ 16 افراد ہلاک ہوئے۔

ایک عالمی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈر‘ کے بیان کے مطابق قندوز میں ایک اسپتال میں 50 بچوں کا علاج کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق اب تک جتنے افراد کا علاج کیا گیا اُن کو گولیاں لگنے سے زخم آئے۔

XS
SM
MD
LG