رسائی کے لنکس

logo-print

انقرہ بم حملے کی ذمہ داری کرد عسکریت پسند تنظیم نے قبول کر لی


دریں اثنا جرمنی نے ترکی میں اپنے سفارتی مشن اور ایک اسکول کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر حفظ ماتقدم کے طور پر جمعرات کو بند کر دیا۔

ایک کرد عسکریت پسند گروپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں گزشتہ اتوار کو ہوئے کار بم حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 37 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعرات کو انٹرنیٹ کے ذریعے جاری ہونے والے ایک بیان میں کردستان فریڈم فیلکن نامی گروپ نے کہا کہ انقرہ میں ہونے والا بم حملہ ترکی کی فوج کی طرف سے جنوب مشرقی علاقے میں کردوں کے خلاف ہونے والے کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

اتوار کو یہ خود کش حملہ انقرہ کے مصروف تجارتی علاقے میں ہوا اور اس حملے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے جو اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ترکی میں قائم یہ گروپ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی یعنی 'پی کے کے' کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہ گروپ ماضی میں بھی ترکی میں مبینہ طور پر کئی حملے کر چکا ہے جس میں رواں سال فروری میں انقرہ میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں 28 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

گزشتہ سال جولائی سے ترکی میں ہوئے پانچ خود کش حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کا الزام یا تو کرد باغیوں یا عراق و شام میں سرگرم انتہا پسند گروپ داعش پر عائد کیا جاتا ہے۔

دریں اثنا جرمنی نے ترکی میں اپنے سفارتی مشن اور ایک اسکول کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر حفظ ماتقدم کے طور پر جمعرات کو بند کر دیا۔

استبنول میں جرمن قونصل خانے کے مطابق انقرہ میں جرمن سفارتخانہ اور استنبول میں جرمن اسکول فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔

قونصل خانے نے ترکی میں جرمن شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی عمارتوں سے جانے سے گریز کریں کیونکہ قونصل خانے کے حکام کو ممکنہ دہشت گرد حملے کا انتباہ موصول ہوا ہے لیکن ان کے بقول اس کے مصدقہ ہونے کے بارے میں تاحال معلومات نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG