رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں ’آخری یہودی‘ کا کباب خانہ بند ہونے کے قریب


سیمنتو نے بتایا کہ کباب خانے میں تمام اشیاء مسلمان ہی تیار کرتے ہیں، لیکن کابل میں سلامتی کے خدشات کے تناظر میں مقامی لوگوں نے طعام خانوں کا رخ کرنا خاصا کم کر دیا ہے

افغانستان میں بسنے والا بظاہر آخری یہودی زیلون سیمنتو ان دنوں سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے۔

سیمنتو دارالحکومت کابل میں گزشتہ چار برسوں سے اپنا کباب خانہ چلا رہا ہے جس کو اُس نے افغان صوبہ بلخ سے منسوب کر رکھا ہے۔

قدیم بلخ نامی یہ کباب خانہ جس خستہ حال عمارت میں قائم ہے اس کا ایک حصہ یہودی عبادت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کی واحد جگہ ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو سیمنتو نے بتایا کہ کباب خانے میں تمام اشیاء مسلمان ہی تیار کرتے ہیں، لیکن کابل میں سلامتی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں مقامی لوگوں نے طعام خانوں کا رخ کرنا خاصا کم کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سیمنتو کا کباب خانہ بھی بندش کے دہانے پر کھڑا ہے۔

’’پہلے (ہمیں) ہوٹلوں کی طرف سے 400 سے 500 افراد کے لیے کھانا فراہم کرنے کے آرڈر ملا کرتے تھے، اور چار سے پانچ چولہے دوپہر سے رات تک جلا کرتے تھے۔ اب میں آئندہ برس مارچ میں یہ کباب خانہ بند کر کے عمارت کو کرائے پر دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔’’

آج کل سیمنتو کے کباب خانے میں چند افراد ہی کھانا کھانے آتے ہیں، اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس علاقے میں قائم اپنے پسندیدہ طعام خانوں کی کسی بھی وجہ سے بندش کے باعث مجبوراً یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

سیمنتو کے اکثر گاہک اُن کے ماضی اور برادری سے آشنا نہیں۔

افغانستان میں یہودیوں کی تاریخ کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں، اور بعض محققوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ 2,000 برس سے زائد عرصہ قبل یہاں رہا کرتے ہوں گے۔

بیسویں صدی تک ان یہودیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور بعد ازاں یہ بڑے جھتوں کی شکل میں یہاں سے چلے گئے۔ ان میں سے بیشتر کی منزل اسرائیل تھی۔

سیمنتو کی اہلیہ اور اُن کی بیٹیاں بھی اسرائیل جا چکی ہیں، لیکن خود سیمنتو نے افغان ’’بھائیوں‘‘ کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG