رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے بعد زندگی کیسی ہوگی؟


سراج وہاب (فائل)

آپ سب نے ایک بار نہیں کئی بار ضرور سوچا ہوگا کہ جب لاک ڈاون ختم ہوگا، جب شہر، دکانیں اور مکان سب پھر سے کھل جائیں گےِِِِ، سڑکیں اور شاہراہیں گاڑیوں سے ایک بار پھر بھر جائیں گی، آسمان پر اڑتے جہازوں کی آوازیں پردیس میں بیٹھے تارکین وطن کیلئے ایک بار پھر وطن جانے کی خواہش کو دو چند کر دیں گی۔ کام پر روزانہ نظر آنے والے ساتھی ایک بار پھر سے ساتھ ہو جائیں گے، تو کیا اس وقت زندگی کا ڈھب ایسا ہی ہوگا جیسا کرونا وائرس سے پہلے تھا۔ تو جناب اس کا جواب آپ کا انداز فکر دے گا۔

اگر آپ ہر ایونٹ اور تجربے سے کچھ سیکھتے ہیں اور مثبت انداز فکر رکھتے ہیں، انسانی اقدار اور انسانیت پر آپ کا یقین ہے تو پھر آپ لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں گے جو آپ نے کرونا کی وبا سے پہلے سوچا تھا اور زندگی جہاں تھم گئی تھی۔ وہیں سے آپ ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر سے شروع کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے سعودی عرب کے کلیدی انگریزی روزنامے’عرب نیوز‘ کے ایک ایڈیٹر اور تجزیہ کار سراج وہاب کا خیال ہے۔

کرونا وائرس کے بعد زندگی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:38 0:00

سراج وہاب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے رجائیت پسند رہے ہیں اس لئے وہ ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھتے ہیں چاہے وہ آفات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ کرونا وائرس کی آفت بھی کچھ ایسا ہی المیہ ہے جو ہمیں بہتر انسان بنائے گا اور ہم اپنے آپ کو اپنے رویوں کو بہتر بنا سکیں گے۔

سراج وہاب کہتے ہیں کہ ایک لمبے عرصے سے ہم ’گلوبل ویلیج‘ کا لفظ سنتے آ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح سے مراد دنیا کے ہر کونے کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے آپس میں مربوط کرنا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ دور کتنا ہے یا کتنا انجانا ہے۔ پھر ’گلوبل ویلیج‘ سے ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سرے پر صورتحال درحقیقت کیا ہے۔ دنیا کے دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے واقعات بھی ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا نے ہمیں اس ’گلوبل ویلیج‘ کی حقیقت سے پوری طرح آگاہی دی ہے۔ یہ محض باہمی رابطوں ہی کی بات نہیں بلکہ حقیقت سے آگاہی بھی ہے کہ کسی ایک جگہ پر واقع ہونے والا المیہ یا پھر اس نوعیت کی وبا اور اس کے اثرات دنیا بھر کو متاثر کر سکتے ہیں اور کرہ ارض کے ہر حصے میں اس کی شدت محسوس کر سکتے ہیں۔

’عرب نیوز‘ کے سراج وہاب کا کہنا ہے جب پہلے پہل چین میں اس مرض کا آغاز ہوا تو عام رد عمل یہی تھا کہ اس کے اثرات چین تک ہی محدود رہیں گے۔ لیکن، جلد ہی اس کے متاثرین ہر ملک میں نظر آنے لگے اور اس کی شدت کا اندازہ ہونے لگا۔ امریکہ، اور یورپ میں اٹلی، سپین، برطانیہ اور جرمنی میں صحت کے بہترین ادارے اس کی شدت سے مغلوب نظر آنے لگے۔ اور ایسے محسوس ہوا کہ وہ بھی اس بحران سے نمٹنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس صورتحال نے ہمیں احساس دلایا کہ وائرس مذہب اور سرحد کو نہیں جانتا اور نہ ہی غریب اور امیر میں فرق کرتاہے۔ اٹلی کے متمول ترین علاقے اس کی زد میں آئے اور سوچنے والوں نے سیکھا کہ ہم قدرت کے نظام کے رحم و کرم پر ہیں۔

اور امید ہے کہ یہی سوچ ہمیں اپنے ساتھی انسانوں کے بارے میں زیادہ ہمدردانہ رویہ اپنانے کے لئے قائل کر سکے گی۔ جیسے برطانوی وزیر اعظم کے سیاسی نظریات سے آپ اتفاق کریں یا نہ کریں پھر بھی ان کی جلد صحت یابی کے لئے دنیا بھر سے آوازیں سنائی دیں۔ اور یہ وہ جذبہ ہے جسے آپ انسانیت کی یک جہتی کے طور پر لے سکتے ہیں۔

سراج وہاب کے مطابق، کرونا وائرس کے بعد دنیا کے بہتر ہو جانے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے ادارے اور حکام اپنے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اور بہت ممکن ہے کہ بیشتر صاحب اقتدار اور اختیا ر یہ سوچیں کہ ’سپر پاور‘ وہ ہے جس کے پاس جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں ٹیسٹ کٹس اور وینٹی لیٹرز زیادہ ہیں۔

آپ کا خیال کیا ہے؟ ہمیں بتائے گا ضرور۔

XS
SM
MD
LG