رسائی کے لنکس

logo-print

پیرو: موسمیاتی تبدیلی سمجھوتا، اقوام متحدہ کی تعریف


مسٹر بان کی مون نے کہا ہے کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ دنیا کی اہم معیشتیں، اپنے ملکوں کے وضع کردہ منصوبوں کو سامنے لائیں، جِن میں پیرس کے اجلاس سے پہلے، ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کا پُرعذم اظہار کیا جائے

اقوام متحدہ کے سربراہ، بان کی مون نے کہا ہے کہ اتوار کے روز پیرو میں ہونے والا عالمی موسماتی تبدیلی پر سمجھوتا، اگلے سال منعقد ہونے والے اجلاس میں ’عالمی سطح پر ایک بامعنی‘ معاہدہ طے کرنے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے؛ ایسے میں، جب لیما میں ہونے والے اِس سمجھوتے کو کئی ماحولیاتی گروپوں نے کمزور قرار دیا ہے۔

پیرو میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے حاصل ہونے والے نتائج کو سراہا۔ ساتھ ہی، اُنھوں نے دنیا کے رُکن ممالک پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ااگلے اجلاس سے قبل ’معنی خیز مذاکرات‘ کیے جائیں۔

اگلا اجلاس، 2015ء کے آخر میں پیرس میں منعقد ہوگا۔

مسٹر بان نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ دنیا کی اہم معیشتیں، اپنے ملکوں کے وضع کردہ منصوبوں کو سامنے لائیں، جِن میں پیرس کے اجلاس سے پہلے، ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کا پُرعذم اظہار کیا جائے۔


لیما کے سمجھوتے کی منظوری سے کچھ ہی گھنٹے قبل، ترقی پذیر ممالک نے اس سے پہلے پیش کردہ تمام مسودوں کو مسترد کردیا، جِن میں امیر ملکوں پر عالمی درجہٴحرارت میں اضافے اور اُن پر کنٹرول کے ضمن میں امیر ملکوں کی طرف سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

بظاہر، حتمی مسودے میں استعمال کی گئی زبان کے بارے میں تشویش کے اظہار کا مداوا کیا گیا ہے۔ دستاویر میں بتایا گیا ہے کہ عالمی حدت کے معاملے سے نبردآزما ہونے کے لیے، مشترکہ، لیکن، الگ الگ بیان کردہ، ذمہ داریاں شامل کی گئی ہیں۔

تاہم، ماحولیاتی گروپوں نے کہا ہے کہ پیرو کا سمجھوتا کمزور نوعیت کا ہے۔

سمنتھا اسمتھ کا تعلق ’ورلڈ وائلڈلائف فنڈ‘ سے ہے۔ وہ موسمیاتی تبدیلی سے تعلق رکھنے والی ایک ماہر ہیں۔ اُنھوں نےاِس سمجھوتے کو ’انتہائی بیکار‘ قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG