رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان، افغانستان میں پولیو پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے: بل گیٹس


پاکستان میں پولیو کے بڑھتے کیسز پر بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں بر وقت اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ پولیو کی روک تھام کی کوششیں جاری ہیں اور پچھلے تین برس سے افریقہ میں ’وائلڈ پولیو‘ کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

دنیا کے امیر ترین اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے شخص بل گیٹس نے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس بات کا امکان اب بھی موجود ہے کہ افریقہ میں پولیو پھر سے سر اٹھا سکتا ہے جب کہ پاکستان، افغانستان میں پولیو پھیلنے کا موجب بن سکتا ہے۔

پاکستان میں پولیو کے بڑھتے کیسز پر ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں بر وقت اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

اُن کے بقول ان کا ادارہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک عالمی سطح پر پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں کر لیا جاتا۔

بل گیٹس نے بتایا کہ اب بھی کہیں کہیں غیر مؤثر ویکسین دیے جانے کے نتیجے میں افریقہ میں پولیو نمودار ہونے کی خبریں موصول ہوتی ہیں، جب کہ پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے ’وائلڈ وائرس‘ کے نئے کیس سامنے آتے رہتے ہیں۔

پولیو ہی کے حوالے سے بل گیٹس نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی اپنا کام مکمل نہیں کیا۔ ہم پولیو کی روک تھام کا کام مکمل کر کے رہیں گے۔

اسی سلسلے میں نائجیریا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خواتین نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہر دروازے پہ دستک دینے کا کام سر انجام دے کر ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔

پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے سلسلے میں بل گیٹس نے کہا کہ بچوں کی اموات کی شرح کو نصف تک لانا ممکن ہے، جس کے لیے نئی ویکسین موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں بچیوں کی تعلیم، خواتین کے علاج معالجے کی سہولیات میں اضافے اور بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی اموات کی شرح میں کمی لا کر صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اس ضمن میں، انھوں نے ایشیا میں بنگلہ دیش اور بھارت میں خواتین کے گروہوں کے کردار کو سراہا، جس تجربے سے افریقہ میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔

شرح پیدائش میں اضافے کے حوالے سے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ جوں جوں کسی ملک میں بچوں کی شرح اموات میں کمی آتی ہے، رضاکارانہ طور پر بچوں کی پیدائش میں کمی آتی ہے اور خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہوتا ہے، تو بچوں کی شرح پیدائش میں کمی آتی ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔

ویکسین پر جاری تحقیق کے کام کے بارےمیں بل گیٹس نے کہا کہ بہت ہی جلد ملیریا کی ویکسین عام ہو جائے گی جب کہ ٹوبرکلوسیس کی مؤثر ویکسین اور ایچ آئی وی ویکسین دریافت ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG