رسائی کے لنکس

اطلاعات کے مطابق، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کی جیت پر جشن منانے اور پاکستان حامی نعرے لگانے پر مدھیہ پردیش میں 15 افراد گرفتار، غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے

چیمپئنز ٹرافی کے فائنل مقابلے میں پاکستان کی جیت پر مبینہ طور پر جشن منانے اور پاکستان حامی نعرے لگانے پر مدھیہ پردیش کے برہانپور ضلع میں پولیس نے 15 مسلمانوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر مجرمانہ سازش اور ملک سے غداری کے مقدمات قائم کر دیے۔ ملزموں کی عمریں 18 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔

شاہ پور پولیس اسٹیشن کے انچارج سنجے پاٹھک کے مطابق ”یہ کارروائی ایک مقامی شخص سبھاش کی شکایت پر کی گئی جس نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ کچھ لوگ موہڈ گاؤں میں املی پور چوراہا، بس اسٹینڈ، بڑی مسجد اور دیگر مقامات پر پاکستان کی جیت پر خوشی منا رہے ہیں، پٹاخے چھوڑ رہے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں اور پاکستان حامی نعرے لگا رہے ہیں۔ ہم نے ابتدائی تحقیقات کی تو الزامات صحیح پائے گئے۔ لہٰذا، مجرمانہ سازش اور ملک سے غداری کے الزام میں ان لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا“۔

شاہ پور پولیس کے مطابق، موہڈ ایک مسلم اکثریتی گاؤں ہے اور بھوپال سے 375 کلومیٹر دور ہے۔ اس سے قبل بھی وہاں اس قسم کے واقعات پیش آئے تھے جس پر کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔

انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ”اب یہ سلسلہ چل پڑا ہے کہ اگر کوئی شخص ’آر ایس ایس‘ والوں کے خیالات سے الگ خیالات پیش کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ قائم کر دیا جاتا ہے“۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”یہ معاملہ جب عدالت میں پہنچے گا اور قانون کے مطابق نمٹایا گیا تو وہاں یہ سب بری ہو جائیں گے۔ کیونکہ کوئی معاملہ بنتا نہیں ہے۔ لیکن چونکہ غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے اس لیے یہ معاملہ عدالت میں برسوں تک چلتا رہے گا۔ ان بیچاروں کی تو شامت آگئی۔ جب تک یہ کیس چلتا رہے گا ان کی گردنوں پر تلوار لٹکی رہے گی“۔

سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ مشتاق احمد نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”کسی ملک کے حق میں نعرے لگانا نہ تو مجرمانہ سازش ہے اور نہ ہی ملک سے غداری۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ اگر کوئی حکومت مخالف نعرہ لگائے تو یہ لوگ تو اس پر بھی غداری کا مقدمہ قائم کر دیتے ہیں۔ اس معاملے میں غداری اور مجرمانہ سازش کی جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ ٹھہرنے والی نہیں ہیں۔ دراصل حکومت مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے اس قسم کی کارروائی کرتی ہے“۔

تاہم، انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”اگر کسی ملک سے ہمارے ملک کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو اس کے حق میں نعرہ بازی نہیں کرنی چائیے“۔

دریں اثنا، سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے اعتدال پسند حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق سے کہا ہے کہ ”وہ اپنا سامان باندھیں اور پاکستان چلے جائیں اور وہاں جا کر پاکستان کی جیت پر جشن منائیں“۔

فائنل مقابلے کے بعد عمر فاروق نے پاکستان کو مبارکباد دی تھی اور اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ”چاروں طرف پٹاخے چھوڑے جا رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عید سے پہلے عید ہوگئی ہے۔ بہتر ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے“۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG