رسائی کے لنکس

logo-print

غریب علاقوں کے بچوں میں ملیریا کا خطرہ سب سے زیادہ


طبی ماہرین کے مطابق ملیریے کی بیماری اس وقت دنیا بھر میں سو سے زائد ممالک میں پائی جاتی ہے اور زیادہ تر غریب علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔

برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ طبی جائزے کے نتائج بتاتے ہیں کہ بہت زیادہ غریب علاقوں میں رہنے والے بچوں میں غریب علاقوں میں رہنے والے بچوں کی نسبت دو گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

اس جائزے سے منسلک تحقیق دان برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ غربت ختم کرکے ان بچوں کو ملیریے سے بچایا جا سکتا ہے۔

ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیو لنڈسے اس تحقیق کی سربراہی کر رہے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ملیریے سے نمٹنے کے لیے نئے طریقوں کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔ پروفیسر سٹیو لنڈسے کے الفاظ، ’اس تحقیق سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ملیریا سے نمٹنے کے لیے صرف بستروں پر جالی لگانا یا بہتر دوائیں لینا ہی کافی نہیں۔ بلکہ بہت غریب علاقوں میں تعمیری کام کرکے بھی ملیریے کو ختم کرنا ممکن ہے۔‘

اس کے علاوہ غذائیت والی خوراک اور تعلیم میں ملیریے سے متعلق آگہی سے بھی ملیریے کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

اس تحقیق کا مقصد ترقی یافتہ افراد کو ملیریے کے خاتمے کے لیے کام کرنے کے لیے اکٹھا کرنا ہے۔ پروفیسر سٹیو لنڈسے کہتے ہیں، ’یہ صرف ایک تحقیق ہے اور اس کے تنائج منطقی نہیں ہیں۔ ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بہت غریب علاقوں میں تعمیروترقی کرنا اتنا آسان نہیں۔ وہاں پر بہتر گھر بنانے ہوں گے، بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہوں گے اور بھی بہت سے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس کی وجہ سے نہ صرف اس علاقے کے لوگوں کو بہتر زندگی گزارنے کا موقع ملے بلکہ ملیریے کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکے۔‘

طبی ماہرین کے مطابق ملیریے کی بیماری اس وقت دنیا بھر میں سو سے زائد ممالک میں پائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG