رسائی کے لنکس

logo-print

'طالب ہو یا فوجی، ایک ہماری جان ہے تو دوسرا ہمارا جگر'


افغان وزیر کمال سادات نے کہا کہ مورچوں پر واپس نہ جانے والے طالبان کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہائی پیس کونسل سے بات کر سکیں۔

افغانستان کے وزیر برائے امور نوجوانان کمال سادات نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہزاروں طالبان عید کی عارضی جنگ بندی کے بعد قیادت کے بلانے کے باجود اپنے گھروں میں ہیں اور وہ واپس مورچوں پر نہیں گئے ہیں۔ وہ امن عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کمال سادات نے کہا کہ طالبان جنگجو جب عیدالفطر کے موقع پرتین روز کی عارضی جنگ بندی کے بعد مورچے چھوڑ کر شہروں میں آئے تو لوگوں نے ان کا کھلے دل سے استقبال کیا۔

’’یہ عید ہم سب کے لیے منفرد تھی۔ ہم نے ان کو خوش آمدید کہا۔ جب وہ شہر آئے تو لوگوں نے اس کا زبردست استقبال کیا۔ وزیرداخلہ بھی ان کے استقبال کے لیے آئے۔وہ عام لوگوں کے ساتھ آئسکریم کھاتے رہے۔ سوشل میڈیا پر کئی تصاویر آپ دیکھ سکتے ہیں‘‘

افغان یوتھ منسٹر کے مطابق سب سے زیادہ جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں ایک افغان نیشنل آرمی کمانڈر اور ایک طالب کمانڈر ملک کے نعرے لگا رہے ہیں ’’ یو زان بل مہ جگر، طالب دے کہ عسکر‘‘ یعنی طالب ہو یا فوجی، ایک ہماری جان ہے تو دوسرا ہمارا جگر‘‘

افغان وزیر کمال سادات نے کہا کہ مورچوں پر واپس نہ جانے والے طالبان کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہائی پیس کونسل سے بات کر سکیں۔

یونائٹڈ سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں جنوبی ایشیا سنٹر کے سربراہ معید یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عارضی جنگ بندی کے اثرات توقع سے کہیں زیادہ اچھے سامنے آ رہے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی امن کے نعرے کے ساتھ اپنی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ طالبان چاہیں تو فورا جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ ان کے کہنے پر جنگجوؤں نے ہتھیار پھینک دیے، مگر جب انہی جنگجووں کو واپس مورچوں پر آنے کو کہا کہ تو ان میں سے کئی تذبذب کا شکار ہیں اور اس تندہی سے واپس نہیں گئے۔ اب اس پیش رفت کو عملی شکل دینے کے لیے افغان حکومت، طالبان دونوں اطراف میں موجود امن پسندوں کو اپنی کوششیں تیز کر دینی چاہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے ساتھ وابستہ صحافی عامر لطیف کا کہنا تھا کہ عید پر جو مناظر دیکھنے کو ملے، کچھ عرصہ پہلے تک اس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ اس سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ آگے چل کر امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایک افغان نوجوان محمد وقار گل بھی بہت خوش ہیں۔ طالبان کے ساتھ چسم سیر پل خمری میں بنائی گئی اپنی سیلفیاں وائس آف امریکہ کو بھیجتے ہوئے کہتے ہیں، ’’طالب بھائی اس عید پر عام لوگوں سے ملے ہیں، افغانستان میں پولیس اور فوج کے ساتھ بھی عید پر سیلفیاں بنوائی ہیں۔ دعا کیجئے گا کہ ہمارے ہاں بھی امن آئے۔ ‘‘

افغان صدر اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کی بات کر رہے ہیں، مگر طالبان نے اپنے حملے شروع بھی کر دیے ہیں۔ تاہم مبصرین کے بقول دیکھنا یہ ہو گا کہ افغان طالبان اپنے جن بھائیوں کے ساتھ کھانا کھا کر گئے ہیں، جن کے ساتھ بغل گیر ہو ئے ہیں، کیا وہ ان کے سینوں کو چھلنی کر سکیں گے؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG