رسائی کے لنکس

logo-print

مرنے کے بعد بھی میاں بیوی کی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے منسلک: رپورٹ


اس نئی تحقیق میں پتا چلا کہ جب شادی شدہ جوڑوں میں سے کوئی ایک دنیا میں نہیں رہتا ہے تو بھی اس کی شخصیت کی خوبیاں زندہ شریک حیات کی فلاح و بہبود کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔

میاں بیوی ایک دوسرے کی نفسیات اور معیار زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن کیا ایک شریک حیات کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی ان کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار کرنے کا تعلق جاری رہتا ہے؟

اس نظریہ کی سائنسی جانچ پڑتال ایک نئی تحقیق میں کی گئی ہے جس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ زندہ شریک حیات اور مرے ہوئے ساتھی کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار کرنے کا تعلق اتنا ہی مضبوط تھا جتنا کہ زندہ شادی شدہ جوڑوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔

ایریزونا یونیورسٹی کے سائیکولوجی سائنس کے ڈاکٹریٹ طالب علم محقق کائل بوراسا اور ان کے ساتھی تحقیق کار کو اس نئی تحقیق میں پتا چلا کہ جب شادی شدہ جوڑوں میں سے کوئی ایک دنیا میں نہیں رہتا ہے تو بھی اس کی شخصیت کی خوبیاں زندہ شریک حیات کی فلاح و بہبود کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے 'سائیکلوجیکل سائنس' میں شائع ہوئی ہے۔

جس میں محقق بوراسا نے کہا کہ ایسے لوگ جن کی ہم اپنی زندگی میں قدر کرتے ہیں ان کی خصوصیات ہمارے معیار زندگی کے ساتھ مستقل جڑی رہتی ہیں جبکہ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے کہ ایک شخص کا معیار زندگی اپنے مرے ہوئے شریک حیات کے پہلے کے معیار زندگی کے ساتھ منسلک تھا بالکل اسی طرح جیسا کہ ایک زندہ شخص اپنی ضرورتوں کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرتا ہے۔

اس سے قبل محقق بوراسا کو ایک پچھلے مطالعے میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار اور ان کی معیار زندگی کے درمیان تعلق کا ثبوت ملا تھا۔

جس کے مطابق شریک حیات میں سے کسی ایک کی علمی صلاحیتوں یا صحت کے اثرات صرف ان کی اپنی فلاح و بہبود کے لیے نہیں تھے بلکہ دوسرے شریک حیات کے لیے بھی تھے۔

محققین حیران تھے کہ کیسے ایک دوسرے پر انحصار اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب جوڑوں میں سے کوئی ایک دنیا سے گزر گیا تھا۔

اس سوال کے جواب کی تلاش میں محققین نے80 ہزار سے زائد بالغ شادی شدہ جوڑوں کے ایک صحت کے مطالعہ کا تجزیہ کیا جس میں 546 ایسے جوڑوں کے اعدادوشمار کا تجزیہ شامل تھا جن میں سے ایک تحقیق کے دوران دنیا میں نہیں رہا تھا جبکہ 2566 جوڑے ایسے تھے جن میں دونوں شریک حیات زندہ تھے۔

جیسا کہ توقع کی گئی تھی نتائج سے اس نظریہ کی تصدیق ہوئی کہ شرکاء کے پہلے کے معیار زندگی سے ان کے بعد کے معیار زندگی کی درست طریقے سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

محققین اس وقت حیران رہ گئے جب انھوں نے بیوہ جوڑوں کے ساتھ زندہ شادی شدہ جوڑوں کا موازنہ کیا تو انھیں جوڑوں میں ایک دوسرے پر انحصار کی طاقت میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں ملا۔

محقق بوراسا نے کہا اگرچہ ہم ان لوگوں کو کھو بھی دیں جن سے ہمیں پیار ہے تو پھر بھی وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں کم از کم جزوی طور پر وہ ہمارے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نتائج دو طریقے سے دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اگر ایک شریک حیات کا معیار زندگی اس کے مرنے سے قبل کم معیاری تھا تو یہ دوسرے شریک حیات کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG