رسائی کے لنکس

logo-print

اصلی چہرہ ہے یا ماسک، پہچان مشکل


اوسامو اپنے تیار کردہ ایک ماسک کے ساتھ۔

جاپان کی ایک چھوٹی سی کمپنی دنیا بھر کے لیے ایسے ماسک تیار کرتی ہے جو اتنے حقیقی ہوتے ہیں کہ اصل اور نقل کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔

انسانی چہرے سے سو فی صد تک مشابہت رکھنے والے ماسک بنانےکی یہ کمپنی جاپان کے ایک گاؤں میں قائم ہے جب کہ اس کے گاہک سعودی عرب سے لے کر انٹرٹینمٹ کی دنیا تک ہر براعظم میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ چھوٹی سی کمپنی محض پانچ کارکنوں پر مشتمل ہے اور وہ سالانہ لگ بھگ ایک سو اسپیشل ماسک تیار کرتی ہے۔ ایک ماسک کی قیمت تقربیاً 2650 ڈالر ہوتی ہے۔

کمپنی کا نام رئیل ایف کو ہے جو دی گئی تصویر کے نقوش اتنی مہارت سے ماسک پر منتقل کرتی ہے کہ جلد کی شکنیں اور جھریاں تک واضح طور پر نظر آتی ہیں اور ماسک پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔

کمپنی کے بانی اوسامو کتاگاوا کا کہنا ہے کہ انہیں ماسک بنانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ پرنٹنگ مشینیں بنانے کی ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ لیکن انہیں اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے میں دو سال سے زیادہ عرصہ لگا۔ جس کے بعد انہوں نے تھری ڈی طریقے سے چہرے کا ڈیٹا اعلی ٰ ترین کوالٹی کے فوٹوگراف بنانے کے لیے استعمال کیا جسے وہ ماسک بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی کمپنی 2011 میں شروع کی۔

اوسامو کہتے ہیں کہ انہیں ہر سال دنیا بھر سے لگ بھگ ایک سو آرڈر موصول ہوتے ہیں جن میں انٹرٹینمنٹ کی شخصیات، آٹوموبائل کمپنیاں، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سیکیورٹی کمپنیاں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں جاپان کی ایک موٹر ساز کمپنی سے ایک ڈرائیور کا ماسک بنانے کا آرڈر ملا جو سویا ہوا دکھائی دے۔ یہ ماسک کمپنی نے ڈرائیونگ کے دوران اونگھنے والوں کو خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے بنوایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ان سے بادشاہ اور شہزادوں کے ماسک بنوائے ہیں، جو سعودی حکومت کے مطابق عوامی مقامات پر پورٹریٹ کی نمائش کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

اوسامو اپنے ماسک خصوصی پلاسٹک سے بناتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں سیلیکان اور دوسرے مرکبات استعال کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی چہروں کے روبوٹس کی ٹیکنالوجی کی ترقی سے انسانی ماسک بنانے کی انڈسٹری بہت ترقی کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG