رسائی کے لنکس

کابل: سفارت خانوں کے قریب بم دھماکا، 90 افراد ہلاک


افغان سیکیورٹی فورسز کے اہل کا کابل میں جرمنی کے سفارت خانے کے قریب خودکش دھماکے کے مقام کا معائنہ کر رہے ہیں۔ 31 مئی 2017

بدھ کی صبح افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سفارتی علاقے میں شدید ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک، جب کہ 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

سکیورٹی سے وابستہ ایک اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دھماکے کے چند گھنٹوں بعد ’وائس آف امریکہ‘ کو ہلاکتوں کی تعداد بتائی۔ اِس سے قبل، افغان وزارتِ صحت کے ترجمان، واحداللہ مجروح نے ہلاکتوں کی تعداد 80 بتائی تھی، اور کہا تھا کہ اِن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بم دھماکہ کابل کے وسطی وزیر اکبر خان علاقے میں ہوا، جہاں غیر ملکی سفارت خانے اور سرکاری دفاتر واقع ہیں، جب درجنوں موٹر گاڑیاں اور ملحقہ عمارات کو نقصاب پہنچا۔ افغان اہل کاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کھڑے ہوئے گندے پانی کے ٹینکر میں چھپایا گیا تھا۔

بم دھماکا جرمن سفارت خانے سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ سماجی میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ سفارت خانوں کا ایک حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ جرمن وزیر خارجہ سگمار گیبرئل نے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں افغان سکیورٹی کا ایک محافظ بھی شامل ہے، جب کہ زخمیوں میں سفارت خانے کے متعدد ملازم شامل ہیں۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) نے ایک مختصر بیان میں ’حقانی نیٹ ورک‘ پر الزام عائد کیا ہے، جو مبینہ طو ر پر ہمسایہ پاکستان میں قائم ہے اور طالبان کے ہمراہ لڑ رہا ہے۔ ’این ڈی ایس‘ نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے جاسوسی کے ادارے، ’آئی ایس آئی‘ نے اس خونریزی کی منصوبہ سازی کی۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 11 امریکی شہری جو افغانستان میں کانٹریکٹر کے طور پر فرائض انجام دیتے ہیں، زخمی ہوئے۔ ترجمان نے بتایا کہ ’’اِن زخمیوں کی حالت تشویش ناک نہیں ہے‘‘۔

اس سے قبل، افغان حکام اُن کے ملک میں باغیوں کے حملوں میں سہولت کاری کا الزام پاکستان پر لگاتے رہے ہیں، جسے پاکستانی حکام نے مسترد کیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ بم دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے 30 سے زائد گاڑیاں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔

بم دھماکے کے بعد کا ایک منظر
بم دھماکے کے بعد کا ایک منظر

کسی بھی گروپ نے فوری طور پر اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ طالبان نے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغی گروپ کا اس بم حملے یا اُن حملوں سے کوئی تعلق نہیں جن میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ پچھلے دِنوں سے باغیوں نے افغان سکیورٹی افواج کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں بیسیوں ہلاک و زخمی ہو چکےہیں۔


داعش نے حالیہ مہینوں کے دوران نامی گرامی سطح کی افغان اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں مارچ میں کابل کے سب سے بڑے فوجی اسپتال پر مہلک خودکش دھماکہ شامل ہے۔

اس حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے، جن میں فوجی اور ڈاکٹر شامل ہیں۔
تباہی

فرانس، ترکی اور ایران کے سفارت خانے اُن عمارات میں شامل ہیں جنھیں مادی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس کے سفارت خانے کے دو ملازمین، جو دونوں جاپانی شہری ہیں، بم حملے میں معمولی زخمی ہوئے، جب کہ عمارت کو بھی کچھ نقصان پہنچا۔

دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارت تباہ ہوگئی جہاں ’روشن‘ کا دفترِ خاص موجود ہے، جو افغانستان کو مواصلات کی فراہمی کا ایک اہم ادارہ ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو قبضے میں لے لیا، اور بچاؤ کے کام میں مدد کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی افواج موقعے پر پہنچ گئیں۔

افغان ٹیلی ویژن نے دوجنوں ایمبولنس کو دھماکے کے مقام کی جانب آتے جاتے دکھایا ہے، جس میں زخمیوں کو اسپتالوں کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

ردِ عمل

افغان صدر اشرف غنی نے بدھ کے روز ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر انسانی اور بزدلانہ‘‘ قرار دیا ہے، جس میں ماہ رمضان میں بے گناہ شہری نشانہ بنے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ دھماکے سے ایک بار پھر حملہ آوروں کی ذہنی کیفیت کا پتا چلتا ہے، ’’جنھیں انسانی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کے افغانستان میں اعانتی مشن (یو این اے ایم اے) نے بم حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اِنھیں ’’اخلاقی طور پر قابلِ مذمت اور وحشیانہ حرکت‘‘ قرار دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ حملہ ماہ رمضان میں ہوا ہے۔

امریکی قیادت والی نیٹو کے ’رزولوٹ سپورٹ‘ کے فوجی مشن نے کہا ہے کہ حملے سے شہریوں کی زندگی کی پرواہ نہ ہونے کا مظاہرہ ہوتا ہے، اور اس سے دشمن کے وحشیانہ عزائم کا پتا لگتا ہے، جن کا افغان عوام ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں‘‘۔

ہمسایہ پاکستان نے بھی اس دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی علاقے میں پاکستانی سفارت کاروں اور عملے کو زخم آئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’پاکستانی عوام اور حکومت افغانستان کے مغموم اہل خانہ اور عوام سے ہلاک ہونے والوں کے لیے دلی گہرائی کے ساتھ تعزیت اور زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں،‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG