رسائی کے لنکس

روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی، میانمار اور بنگلہ دیش ورکنگ گروپ بنائیں گے


بنگلہ دیش کے کاکسس بازار کیمپ میں روہنگیا پناہ گزین کمبل حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ نومبر 2017

میانمار اور بنگلہ دیش نے روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے معاملات طے کرنے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر متفق ہو گئے ہیں، لیکن پناہ گزینوں کی واپسی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

دونوں ملکوں کے عہدے داروں کے درمیان منگل کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی میٹنگ میں ایک ورکنگ کروپ قائم کرنے کا معاہدہ ہوا جس کے ارکان کی تعداد 30 تک ہو سکتی ہے۔

اس سال اگست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کی فوج کی کارروئیوں کے بعد سے اپنی جانیں بچانے کے لیے 6 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش داخل ہو چکے ہیں۔

روہنگیا پناہ گزینوں کا ایک عارضی خیمہ
روہنگیا پناہ گزینوں کا ایک عارضی خیمہ

دونوں ملکوں کے درمیاں پچھلے مہینے طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت پناہ گزینوں کی اپنے ملک واپسی کا سلسلہ 21 جنوری سے شروع ہونا تھا، لیکن بنگلہ دیش نے وزارت خارجہ کے عہدے داروں نے، جنہوں نے منگل کے اجلاس میں شرکت کی تھی کہنا ہے کہ اس عمل میں چند ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روہنگیا کو واپس بھیجا گیا تو انہیں وہاں دوبارہ تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG