رسائی کے لنکس

logo-print

کرپشن کا الزام، مائیکرو سوفٹ نے ڈھائی کروڑ ڈالر دے کر جان چھڑا لی


فائل فوٹو

مائیکرو سوفٹ نے کرپشن کے الزامات کے تحت کاروائی سے بچنے کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالرز سے زائد 'جرمانہ' ادا کر دیا ہے۔

مائیکرو سوفٹ کے ہنگری اور دیگر غیر ملکی دفاتر پر مہنگے داموں سافٹ ویئرز فروخت کرنے اور حکومتی افسران کو رشوت دینے کے الزامات تھے جن کے خلاف کاروائی سے بچنے کے لیے کمپنی نے 'جرمانے' کی رقم ادا کی ہے۔

​خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امریکہ کے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے بتایا ہے کہ مائیکرو سوفٹ نے ’فارِن کرپٹ سروسز ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کی ہے جس کی پاداش میں اس پر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز سے زائد رقم کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

ایس ای سی کا مزید کہنا تھا کہ مائیکرو سوفٹ کے سعودی عرب، تھائی لینڈ اور ترکی کے دفاتر میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

مائیکرو سوفٹ نے حکومتی افسران کو رشوت دینے کے بعد سافٹ ویئرز کے مہنگے دام فروخت سے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم کمائی جو اسے اب سود سمیت جرمانے کے طور پر واپس کرنا ہو گی۔

امریکی محکمہ انصاف نے مائیکرو سوفٹ پر مزید 80 لاکھ 75 ہزار ڈالرز سے زائد رقم کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ جو ہنگری میں افسران کو رشوت دینے کے معاملے پر عائد کیا گیا ہے۔

مائیکرو سوفٹ پر الزام تھا کہ ہنگری میں اس کے چند افسران نے عام لوگوں کو سستے دام بیچے جانے والے سافٹ ویئرز ہنگری کی حکومت کو مہنگے فروخت کیے اور اس کام کے لیے غیر ملکی افسران کو رشوت دی۔

مائیکروسوفٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے پیر کو ملازمین کو خط بھی لکھا۔ خط میں انہوں نے لکھا کہ مائیکرو سوفٹ کے کچھ ملازمین ضابطوں کی خلاف ورزی میں ملوث رہے ہیں تاہم اب کسی ملازم کی طرف سے کوئی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ مائیکرو سوفٹ کی کرپشن کا معاملہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل گزشتہ سال سامنے لایا تھا۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ 2013 سے سال 2015 تک مائیکرو سوفٹ ہنگری کے اعلیٰ عہدے داروں نے ہنگری کی حکومت کو مہنگے دام سافٹ ویئرز فروخت کیے تھے۔

زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں انہوں نے اس کام کے لیے غیر ملکی حکومتی افسران کو رشوت بھی دی۔

مائیکرو سوفٹ اسکینڈل میں ملوث چار ملازمین کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے جب کہ ایس ای سی نے مائیکرو سوفٹ پر پابندی لگائی ہے کہ کمپنی اب ان ریٹیلرز سے کوئی تعلق نہیں رکھے گی جو اس اسکینڈل میں ملوث تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG