رسائی کے لنکس

صحافیوں کی کمیٹی نے بتایا ہےکہ وہ پُرتشدد کارروائیوں کے 73 واقعات سے آگاہ ہے، جو سال 2016 میں اسی دورانیے کے دوران 35 فی صد کا اضافہ ہے۔ اِن پُرتشدد کارروائیوں میں صحافیوں کا قتل، مار پٹائی، زخمی کیے جانے، بے توقیر ہونے، ڈرانے دھمکانے اور اُن کو حراست میں لیے جانے کے واقعات شامل ہیں

ذرائع ابلاغ پر نگاہ رکھنے والے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ اس سال افغانستان میں طالبان اور داعش کے وفادار لڑاکوں کے شدت پسند حملوں میں اب تک 10 صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔

افغان صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی (اے جے ایس سی) نے منگل کے روز کابل میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں 12 صحافی زخمی ہوئے۔

گروپ کے سربراہ نجیب شریفی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ صحافیوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں کے 73 واقعات سے آگاہ ہے، جو سال 2016 میں اسی دورانیے کے مقابلے میں 35 فی صد کا اضافہ ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اِن پُرتشدد کارروائیوں میں صحافیوں کا قتل، مار پٹائی، زخمی کیے جانے، بے توقیر ہونے، ڈرانے دھمکانے اور اُن کو حراست میں لیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔

شریفی نے توجہ دلائی کہ ’’ہلاک ہونے والے یا تو دہشت گرد گروہوں کا براہِ راست نشانہ بنے یا پھر دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی اس تنظیم نے بتایا ہے کہ خاص طور مشرقی افغانستان میں پُرتشدد کارروائیوں میں اضافہ آچکا ہے، اِن شدت پسند کارروائی کی منصوبہ سازی کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہے، جب کہ جہاں دہشت گرد گروپ کافی تعداد میں موجود ہیں وہاں آئے روز صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG