رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ریلوے میں 90 ہزار ملازمتوں کے لیے ڈھائی کروڑ امیدوار


بھارت کے شہر اجمیر میں ایک ٹرین کی چھت پر بھی مسافر سوار ہیں (فائل فوٹو)

درخواست جمع کرانے والوں کی یہ تعداد آسٹریلیا کی کل آبادی سے بھی زائد ہے۔ آسٹریلیا کی آبادی دو کروڑ 40 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

بھارت کی ریلوے میں خالی 90 ہزار اسامیوں کے لیے ریکارڈ ڈھائی کروڑ افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔

بھارت میں ریلوے سرکار کی ملکیت ہے جس کے ملازمین کی تعداد لگ بھگ 13 لاکھ ہے۔ بھارتی ریلوے دنیا کا چوتھا بڑا ریل نیٹ ورک ہے اور ملازمین کی تعداد کے اعتبار سے بھارت کا سب بڑے آجر ادارہ ہے۔

بھارتی ریلوے بورڈ کے سربراہ اشوانی لوہانی کے مطابق ریلوے میں گزشتہ چند سال سے بھرتیاں نہیں ہوسکی تھیں جس کے باعث 90 ہزار اسامیاں خالی ہیں۔

ریلوے نے گزشتہ ماہ اشتہارات کے ذریعےجن اسامیوں پر بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں ان میں انجن ڈرائیور، ٹیکنیشنز، ڑھئی، پٹریوں کے نگران عملے سمیت دیگر ملازمتیں شامل ہیں۔

اشوانی لوہانی نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ ریلوے نے ان اسامیوں پر بھرتی کے لیے امیدواران سے آن لائن درخواستیں طلب کی تھیں جس کے بعد سے اب تک ملک بھر سے ڈھائی کروڑ افراد درخواست دے چکے ہیں۔

درخواست جمع کرانے والوں کی یہ تعداد آسٹریلیا کی کل آبادی سے بھی زائد ہے۔ آسٹریلیا کی آبادی دو کروڑ 40 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

حکام کے مطابق درخواست دینے والوں کو تحریری ٹیسٹ دینا ہوگا جو 15 زبانوں میں دستیاب ہے۔ ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو جسمانی صحت کے ٹیسٹ سے بھی گزرنا پڑے گا۔

بھارتی حکومت نے ریلوے کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 130 ارب ڈالر مختص کر رکھے ہیں ۔ حکام کے مطابق منصوبے کے تحت ریلوے کو بتدریج جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے جب کہ نئی بھرتیاں بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے چار سالہ دورِ حکومت کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی سرکاری ادارہ اتنی بڑی تعداد میں بھرتیاں کرے گا۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر ماہ 10 لاکھ نئے نوجوان لیبر فورس کا حصہ بنتے ہیں جن کے لیے ملازمتوں اور روزگار کے مواقع کی فراہمی بھارتی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

بھارت میں بے روزگاری کی شرح فروری 2018ء میں 1ء6 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی جو گزشتہ 15 ماہ میں بلند ترین شرح ہے۔

نریندر مودی نے 2014ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 2022ء تک ملک میں روزگار کے 10 کروڑ نئے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا کیا تھا لیکن تاحال وہ اپنے اس ہدف سے بہت پیچھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG