رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: اقلیتی اْمیدوار بطور خاص سکیورٹی خدشات کا شکار


فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخوا سے جنرل نشست پر انتخاب لڑنے والے ایک اقلیتی امیدوار بطور خاص حالیہ واقعات کے بعد اپنی سکیورٹی کے بارے میں پریشان ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انتخابی امیدواروں پر رواں ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملوں نے جہاں الیکشن سے قبل سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے وہیں ملک بھر میں انتخاب لڑنے والے امیدواروں میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا سے جنرل نشست پر انتخاب لڑنے والے ایک اقلیتی امیدوار بطور خاص حالیہ واقعات کے بعد اپنی سکیورٹی کے بارے میں پریشان ہیں۔

اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی کارکن رادیش سنگھ ٹونی خیبر پختونخوا کی تاریخ میں جنرل نشست پر انتخاب لڑنے والے پہلے سکھ ہیں جو صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 75 پشاور سے اْمیدوار ہیں۔

اس حلقے میں رادیش سمیت کل 16 امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ اور آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کے بارے میں رادیش سنگھ ٹونی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 10 جولائی تک سکیورٹی کی صورتِ حال قدرے بہتر تھی لیکن پشاور، بنوں اور مستونگ میں انتخابی جلسوں پر حملوں کی وجہ سے تمام انتخابی اْمیدوار اب تشویش میں متبلا ہوچکے ہیں۔

اْنہوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد کے جانب سے انہیں فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں انہیں الیکشن سے دستبردار ہونے کا کہا جارہا ہے اور ایسا نہ کرنے کے صورت میں اْنہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

رادیش سنگھ (فائل فوٹو)
رادیش سنگھ (فائل فوٹو)

تاہم رادیش سنگھ کے بقول تمام خطرات کے باجود بھی ان کی انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن قمر نسیم کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے آزاد اْمیدواروں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے خود اقدامات کریں۔

اس لیے ان کے بقول نگران حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ تمام امیدواروں اور خاص طور پر اقلیتی اْمیدواروں کے تحفظ کے لیے اطمینان بخش اقدامات اْٹھائے۔

رادیش سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انتخابات میں جنرل سیٹ پر حصہ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ پورے پاکستان میں اقلیتی رہنما مخصوص نشستوں پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونا چاہتے ہیں جو ان کے بقول کھل کر اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اس لیے نہیں اْٹھا سکتے کیوں کہ وہ پارٹی کی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں۔

رادیش سنگھ ٹونی یہ انتخاب آزاد حیثیت میں لڑ رہے ہیں لیکن انہیں دو چھوٹی سیاسی جماعتوں - مزدور کسان پارٹی اور نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت کی حمایت حاصل ہے۔

حلقہ پی کے 75 میں جہاں رادیش سنگھ ٹونی امیدوار ہیں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 134145 ہے جس میں 10100 مسیحی، 1255 ہندو اور 60 ووٹ سکھ برادری کے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کئی دیگر اْمیدواروں کو بھی الیکشن سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز موصول ہوئی ہیں جس کے باعث امیدواروں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شعبۂ خواتین کی صوبائی سربراہ اور سابق رکنِ صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں جو انہیں انتخابی مہم سے دور رہنے کا کہہ رہے ہیں۔

صوبے میں سرگرم دیگر سیاسی جماعتوں بشمول عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور قومی وطن پارٹی کے رہنماؤں نے بھی وائس آف امریکہ کے رابطے پر دعویٰ کیا کہ ان کے امیدواروں کو بھی ڈرایا دھمکایا جارہا ہے لیکن ان رہنماؤں نے ان الزامات کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

صوبے کی نگران حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر امیدواروں اور انتخابی عمل کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور پشاور اور بنوں میں انتخابی امیدواروں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد یہ اقدامات مزید سخت کیے جارہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی کل 124 نشستوں میں سے اقلیتوں کے لیے مخصوص تین نشستوں پر مختلف سیاسی جماعتوں نے 20 اْمیدوار نامزد کیے ہیں۔

انتخابی شیڈول جاری ہونے سے قبل اقلیتی برادری کے بعض نمائندوں کو مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے کے خلاف پشاور میں اقلیتی برادری کے افراد نے احتجاج بھی کیا تھا جس کے بعد ان میں سے کچھ افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG