رسائی کے لنکس

logo-print

یاسین ملک کے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، مشال ملک


یاسین ملک، اپنی اہلیہ مشال ملک اور بیٹی کے ساتھ۔

گزشتہ ہفتے مشال حسین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے شوہر یاسین ملک کی رہائی میں مدد کریں۔

انہوں نے بعد میں فون پر گفتگو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 22 فروری کو حراست میں لینے کے بعد، یاسین ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے، انہیں سری نگر سے جموں کی انتہائی سیکورٹی کی جیل کوٹ بھلوال میں لے جایا گیا۔’ جہاں وہ قید تنہائی میں تھے اور انہیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

مشال ملک کے مطابق 9 مارچ کو انہیں بھارت کی تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں سیاسی قیدی کے تو کیا انسانی حقوق بھی نہیں مل رہے۔ یاسین ملک کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ مشال نے الزام لگایا کہ مودی سرکار کا منصوبہ ہے کہ انہیں مار دیا جائے۔

مشال ملک نے یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر کو جب نئی دہلی منتقل کیا گیا تو اس کی اطلاع نہ تو ان کے کونسل کو دی گئی اور نہ ہی خاندان کو۔ پھر جب انہیں کورٹ میں پیش کیا گیا تو اس کے بعد این۔آئی۔اے، نے یاسین ملک کو پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا۔

یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’ انہیں اتنا ’مینٹل ٹارچر‘ کیا گیا کہ وہ 14 دن کی بھو ک ہڑتال پر چلے گئے۔ میری نند کو صرف 15 منٹ ملنے کی اجازت ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یاسین صاحب اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اٹھ بھی نہیں سکتے‘۔

’ ٹرائل کے دوران کسی شخص کو ڈیتھ سیل یا قید تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا‘۔ یہ کہنا ہے نئی دہلی میں سپریم کورٹ کے وکیل راکیش کمار کا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کی شکایت حکام تک پہنچانا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اس نوعیت کی کئی شکائتوں کی سماعت کی ہے۔

مشال ملک کے الزام کے بارے میں جب میں نے انڈیا کی برسر اقتدار جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان اور کابینہ کے سابق وزیر شاہ نواز حسین صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی زندگی دشوار ہے۔ اور قانون سب کے لیے برابر ہے‘۔

انہوں نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا کہ یاسین ملک کو پھانسی کی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ غلط الزام ہے۔ یہ پروپیگنڈہ ہے انڈیا کے خلاف، ایک سوچی سمجھی سیاست کے تحت۔ انہیں کسی ڈیتھ سیل میں نہیں رکھا گیا۔ انڈیا کی جیلوں میں بہت اچھی سہولتیں ہیں اور جیل مینویل کے مطابق سب سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مقدمہ تو پہلے سے ہی چل رہا ہے۔ اس میں مظلوموں کو انصاف ملنا ہے اور بہت سی رپورٹیں ہیں، جن کی وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

مشال ملک نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام کنٹری ہیڈ سے ملاقات میں، یاسین ملک کی قید اور شوہر سے ملنے کے لیے تحریری درخواست دے دی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ہیومن رائٹس کمشنر کو بھی خطوط بھجوا دیے ہیں۔

مشال کہتی ہیں، ’میں نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ یاسین ملک کو کسی قسم کے نقصان کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہو گی‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG