رسائی کے لنکس

logo-print

سرجری کے دوران مریض کے مصنوعی دانتوں کی ستم ظریفی


فائل فوٹو

حلق میں ہڈی پھنس جانے کے بارے میں تو اکثر ذکر ہوتا ہے۔ خاص طور پر عید قرباں کے دنوں میں ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جب بھنا ہوا گوشت عجلت میں کھانے سے کوئی ہڈی حلق میں جا پھنستی ہے۔ تاہم شاید ہی کسی نے یہ سنا ہو کسی مریض کے پیٹ کا آپریشن ہو اور اس کے مصنوعی دانت پھسل کر حلق میں جا اٹکے ہوں۔

ایک میڈیکل جرنل نے ایسے ہی ایک واقعے کی نشاندہی کی ہے جس میں ایک 72 سالہ برطانوی مریض پیٹ کے آپریشن کے لیے اسپتال پہنچا اور سرجری کے دوران اس کے تین مصنوعی دانتوں کا ڈینچر اس کے حلق میں پھنس گیا۔ اس کا پتا لگانے میں آٹھ دن گزر گئے۔

سرجری کے دو روز بعد مریض دوبارہ اسپتال پہنچا اور اس نے شکایت کی کہ اسے کھانا نگلنے میں اور سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے اس کا نمونیا کے حوالے سے علاج شروع کر دیا اور اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائیڈ دے اسے گھر بھیج دیا گیا۔

مریض چند روز بعد پھر اسپتال پہنچا اور اس نے بتایا کہ یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور اب اس کے منہ سے خون بہنے لگا ہے۔ اس پر ڈاکٹروں نے اس کے گلے کا ایکسرے لیا تو پتا چلا کہ اس کے مصنوعی جبڑے کا کچھ حصہ پھسل کر اس کے حلق میں اٹک گیا تھا۔ یوں سرجری کے ذریعے یہ مصنوعی دانت نکالے گئے تو مریض کی جان میں جان آئی۔

مریض کا کہنا ہے کہ جب وہ پیٹ کی سرجری کے لیے اسپتال گیا تو اس نے سمجھا کہ اس کے مصنوعی دانت اسپتال میں ہی کہیں کھو گئے تھے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی سرجری کے لیے جب ناک یا منہ کے راستے کوئی ٹیوب ڈالی جاتی ہے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ اس کے مصنوعی یا ہلے ہوئے دانت اپنی جگہ بدل کر جسم کے کسی دوسرے حصے میں پہنچ جائیں۔

اسی لیے بہت سے اسپتالوں میں سرجری سے پہلے مریض کے مصنوعی دانت نکال لیے جاتے ہیں۔ تاہم اس مریض کے معاملے میں ایسا نہیں ہو سکا اور یہ مصنوعی دانت حلق سے باہر نکالنے میں آٹھ دن لگ گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG