رسائی کے لنکس

logo-print

جھارکھنڈ میں ہجوم کے تشدد سے مسلم نوجوان ہلاک


بھارت میں ہجوم کی طرف سے اقلیتی افراد پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ۔ فائل فوٹو

جھارکھنڈ میں سرائے کیلا ضلع کے دھتکی ڈیہہ گاؤں کے باشندوں نے چوری کے شبہ میں ایک 22 سالہ مسلم نوجوان تبریز انصاری کو پکڑا اور گھنٹوں اس کی پٹائی کی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ اُس سے جبراً جے شری رام اور جے ہنومان بھی بلوایا گیا۔ امسال بھارت میں اس قسم کا یہ گیارہواں واقعہ ہے۔

اس کے اہل خانہ کے مطابق اٹھارہ گھنٹے تک اسے زدوکوب کیا گیا۔

سرائے کیلا کے ایس پی کارتک نے کہا کہ اسے موٹر بائک چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ 18 جون کی صبح کو تبریز پولیس کو ایک درخت سے بندھا ہوا ملا۔ اسے پولیس تحویل میں رکھا گیا جہاں ہفتے کی صبح کو اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ اسے سرائے کیلا صدر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

ڈاکٹرو ں کے مطابق موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد معلوم ہو گی۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس میں تبریز ایک درخت سے بندھا ہوا ہے۔ اسے ڈنڈوں سے پیٹا جا رہا ہے اور اس سے جبراً جے شری رام اور جے ہنومان کہلوایا جا رہا ہے۔ وہ ہجوم سے رحم کی بھیک مانگ رہا ہے۔

اس کی اہلیہ شائستہ پروین کی رپورٹ کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ایک سینئر تجزیہ کار اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی سیکٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریند رمودی کے دوسری مدت کے لیے برسراقتدار آنے کے دن سے ہی ہجومی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول اب یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ ایسے واقعات کا تعلق الیکشن سے نہیں ہے بلکہ ملک میں ہندو راشٹر قائم کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ ایسے واقعات کی جان بوجھ کر ویڈیو بناتے اور اسے وائرل کرتے ہیں تاکہ پورے ملک میں مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جا سکے۔ اس پر نہ تو وزیر اعظم کوئی بیان دیتے ہیں نہ ہی وزیر داخلہ۔

تسلیم رحمانی نے مزید کہا کہ یہ ملک سے غداری کا معاملہ ہے۔

انھوں نے امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ یہاں کی حکومت اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن وہ رپورٹ واقعات کی بنیاد پر تیار ہوئی ہے۔ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے انسانی حقوق کے کارکنوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے اور ایسے واقعات کے تدارک کا انتظام کرنا چاہیے۔

مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ملک میں نفرت کا جو ماحول بنایا ہے اس کے سبب ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

جبکہ جھارکھنڈ کے ایک وزیر سی پی سنگھ کہتے ہیں کہ ایسے واقعات کو سیاسی رنگ دینا غلط ہے۔

ان کے بقول ایسے واقعات کو بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے جوڑنے کا ایک رجحان چل پڑا ہے۔ حکومت اس واقعہ کی جانچ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر گائے ذبح کرنے یا بیف رکھنے کی افواہ پر ہندو انتہاپسندوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور مودی حکومت ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے اتوار کے روز اس رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ بھارت کو اپنے سیکورلزم، رواداری اور سماجی ہم آہنگی پر فخر ہے اور کسی دوسرے ملک کو بھارت کے شہریوں کے بارے میں تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG