رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن میٹروپولٹن علاقہ: شدید برف باری کی زد میں


پیر کی شام، وفاقی دارالحکومت، واشنگٹن؛ ورجینیا اور میری لینڈ سمیت مشرقی ساحلی علاقوں میں شدید برف باری ہوئی، جس کے باعث عام معمولات زندگی سخت متاثر ہوئے۔ ادھر، نیو یارک، بوسٹن، نیو انگلینڈ، کنیٹی کٹ، مئین کے شمالی خطے میں اتوار کے بعد آج پھر شدید برفانی طوفان آیا

پیر کی شام، امریکہ کے شمالی علاقوں کے علاوہ، واشنگٹن میٹروپولٹن علاقے میں شدید برف باری ہوئی، جس کے نتیجے میں عام معمولات زندگی سخت متاثر ہوئے۔

اس سے قبل، ہفتے اور اتوار کو بھی علاقے میں برف باری ہو چکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، اتوار کو نیوانگلینڈ کے شمالی علاقے میں برفانی طوفان آیا، جس کے باعث خطہ ایک سے ڈیڑھ فٹ برف تلے دب گیا، جہاں جاری موسم سرما کے دوران پہلے ہی سات فٹ برف پڑ چکی ہے۔

میساچیوسٹس کے گورنر، چارلی بیکر کے بقول، 'برف باری نے ایک بار پھر اپنا جلوہ دکھایا، اور دیکھتے ہی دیکھتے، ایک فٹ برف کی تہہ جم گئی'۔

بوسٹن میں بھی ایک فٹ سے زیادہ برف پڑی، جب کہ جاری سردی کے موسم میں اب تک سات فٹ برف پڑ چکی ہے؛ اور یوں، علاقے کے لیے سال 1872 کے بعد، فروری کا مہینا، تاریخ کا سرد ترین مہینہ ثابت ہوا۔

پچھلے ریکارڈ کے مطابق، جنوری 2005ء میں بوسٹن میں 43.3 انچ برٖف پڑی تھی، جب کہ اس سال اب تک 58.5 انچ برف پڑ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق، علاقے کا مطلع برفانی نظام کی زد میں ہے، اور رات کو ایک وسیع علاقے میں پھر برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس سے قبل، پیر ہی کے دِن، امریکہ کے قومی موسمیاتی ادارے نے پیش گوئی کی تھی کہ مشرقی امریکہ کے ایک بڑے علاقے کو جاری موسم سرما کے ایک بڑے طوفان کا سامنا ہوگا، جس دوران 15 سے 30 سینٹی میٹر تک برف باری ہوسکتی ہے۔

برف باری کے ساتھ ساتھ، اِن دنوں فروری کے وسط میں، مشرقی امریکہ کو شدید سردی کا سامنا ہے۔

پیر کو ملک کے سرد ترین مقامات میں نیو یارک کا شہر واٹر ٹاؤن تھا، جہاں درجہ حرارت منفی 36.6 سیلشئیس ریکارڈ کیا گیا؛ جب کہ نیو ہیمپشائر کے علاقے ماؤنٹ واشنگٹن میں منفی درجہ حرارت 37 سیلشئیس تھا۔

وفاقی دارالحکومت، واشنگٹن میں 30 سینٹی میٹر برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

موسم سرما کے دروان، بوسٹن میں اب تک 2.4 میٹر تک برف باری ہوچکی ہے، جب کہ جمعرات تک مزید 20 سینٹی میٹر برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG