رسائی کے لنکس

logo-print

ہم پیر اور جمعے کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں: مطالعہ


مطالعے کے نتائج حیران کن نہیں تھے، جس میں شرکاء نے پیر کو بنیادی طور پر بورنگ، تھکا دینے والا اور مصروف دن جیسے الفاظ کے ساتھ منسلک کیا جبکہ جمعہ کو مثبت الفاظ مثلاً آزادی، آرام اور تقریبات کے ساتھ منسوب کیا گیا۔

ہم اپنی مصروفیات کے بیچ میں اکثر دنوں کا حساب رکھنا بھول جاتے ہیں اور خاص طور پر دنوں کے ناموں کے حوالے سے ہماری غائب دماغی ہفتے کے وسطی دنوں میں عروج پر ہوتی ہے لیکن دوسری طرف یہ سچائی بھی ہمیں ماننی پڑتی ہے کہ پیر اور جمعہ کا دن ہم شاید ہی کبھی بھولتے ہوں گے اور ایسا کیوں ہوتا ہے تو اسکا ماہر نفسیات نے آسان جواب تلاش کر لیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ہم ہفتے کے باقی دنوں کے مقابلے میں پیر اور جمعے کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں۔

برطانوی سائنس دانوں کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہفتے کا سات روزہ سلسلہ دراصل ہمارے سوچنے کے طریقے کوکنٹرول کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پیر اورجمعہ کو ہم زیادہ سوچتے ہیں، اسی لیے یہ منگل، بدھ اور جمعرات کی طرح ہمارے دماغ میں غلط ملط نہیں ہوتے ہیں اور ہم انھیں آسانی سے نہیں بھولتے ہیں۔

یونیورسٹی آف لنکولن، یونیورسٹی آف یورک اور ہرٹ فورڈ شائر یونیورسٹی سے وابستہ ماہر نفسیات نے ہردن کے بارے میں لوگوں کی سوچ معلوم کرنے کے لیے ایک تجربہ کیا۔

ایک ہزار سے زائد افراد پر کیے جانے والے مطالعے میں ماہرین نے شرکاء سے پوچھا کہ وہ ہر دن کو کن الفاظوں کے ساتھ سوچتے ہیں اور کیا وہ کسی دن کو اپنے منفی یا مثبت جذبات کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔

نتائج سے پتا چلا کہ لوگ باقی دنوں کے مقابلے میں پیر اور جمعے کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں اور اسی وجہ سے منگل، بدھ اور جمعرات کی نسبت ان کے دماغ میں پیر اور جمعہ کی شناخت مضبوط تھی جبکہ ہفتے کے غیر معروف دن ان کے لیے کم معنی رکھتے تھے جس سے وہ آسانی سے انھیں بھول سکتے تھے یا انھیں ایک دوسرے سے غلط ملط کرنے کا امکان تھا۔

محققین کے مطابق مطالعے کے نتائج حیران کن نہیں تھے، جس میں شرکاء نے پیر کو بنیادی طور پر بورنگ، تھکا دینے والا اور مصروف دن جیسے الفاظ کے ساتھ منسلک کیا جبکہ جمعہ کو مثبت الفاظ مثلاً آزادی، آرام اور تقریبات کے ساتھ منسوب کیا گیا۔

تقریباً 40 فیصد شرکاء آج کے دن کو گزرے ہوئے کل یا آنے والے کل کے دن کا نام سے یاد کرنے میں الجھن کا شکار ہوئے اور یہ غلطیاں زیادہ تر ہفتے کے وسطی دنوں کے درمیان واقع ہوئیں۔

سائنسی جریدے 'پلوس ون' کے مطابق شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی تیزی سے ایک صحیح دن کو یاد کرسکتے ہیں نتائج سے ظاہر ہوا کہ شرکاء پیر اور جمعے کے بارے میں ہفتے کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں دو بار تیزی سے یاد کرنے کے قابل تھے۔

یونیورسٹی لنکولن اسکول آف سائیکلوجی سے وابستہ تحقیق کے سربراہ ڈکٹر ڈیوڈ الیسن نے کہا کہ ایک تہائی سے زائد شرکاء نے موجودہ دن کو ایک مختلف دن کی طرح محسوس کیا اور لوگوں کی یہ سوچ زیادہ تر منگل، بدھ اور جمعرات کے دن نظر آئی۔

انھوں نے کہا کہ جس سے ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ ہفتے کے بیچ کے دنوں کے بارے میں ہم بھولنا شروع کردیتے ہیں اور جمعہ تک پھر سے ہماری یاداشت بہتر ہوجاتی ہے۔

محققین نے دعویٰ کیا کہ پیر اور جمعہ کا دن ممکنہ طور پر ہفتے کے دیگر دنوں کے مقابلے میں مختلف خصوصیات کے حامل ہیں۔

پوفیسر ڈیوڈ الیس نے کہا کہ ہفتے کے سات دن کا سائیکل ہماری پیدائش کے بعد بار بار دہرایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ہفتے کے ہر ایک دن کے بارے میں ہمارے دماغ میں خصوصیت سما جاتی ہے۔

محققین نے رپورٹ کیا کہ پیر کے دن دل کے دورے کا خطرہ زیادہ ہے اور خودکشی کرنے کے امکانات زیادہ تھے اس روز لوگوں کا مزاج سست ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG