رسائی کے لنکس

logo-print

موصل: بیٹے بیٹیوں کی ہلاکت کے بعد 23 پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کی کفالت


موصل (فائل)

جب جولائی 2017ء کو عراقی افواج نے موصل کو داعش کے شدت پسندوں سے واگزار کرانے کا اعلان کیا، جس پر ملک بھر میں حالات معمول پر آنے کی فتح کا تازیانہ بجا اور امید کی ایک کرن پیدا ہوئی۔

تاہم، ثنا ابراہیم، جن کے داعش کی حکمرانی کے دوران سارے بچے ہلاک ہوئے، حالات کبھی پھر سے ایک جیسے نہیں ہو پائیں گے۔

اب 61 برس کی ثنا 23 پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کا سہارا بنی ہوئی ہیں جو اُن کے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی اولاد ہیں، جو اس ظالمانہ تنازع میں لقمہٴ اجل بنے۔

ثنا کے گِرد اپنے بچوں کی یتیم اولاد جمع ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’داعش نے ہمارا سب کچھ چوپٹ کر دیا۔ کچھ نہیں بچا۔ اُنہوں نے میرے گھر پر دھاوا بولا اور میرے جگر کے ٹکڑوں کو قتل کیا‘‘۔

جون 2014ء میں داعش نے موصل کا کنٹرول سنبھالا۔ اس سے قبل ثنا ابراہیم اور اُن کا خاندان شہر کے گنجان آباد علاقے میں مقیم تھا، جسے پرانہ موصل کہا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کا گھر اُن ہزاروں عمارتوں میں سے ایک تھا جو لڑائی میں منہدم ہوکر اجڑ گیا۔

موصل عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جس کی آبادی 10 لاکھ سے زائد ہے؛ اور عراق اور شام میں داعش کے زیر کنٹرول رقبے میں سے سب سے بڑا شہر تھا۔

وزیر اعظم حیدر العبادی نے جولائی 2017ء میں شہر کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرانے کا اعلان کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ جہادی گروپ کا تمام علاقوں سے قلع قمع کر دیا گیا ہے، جس عراقی خطے پر شدت پسند قابض ہوا کرتے تھے، جب کہ جہادی گروپ کی کوشش ہے کہ وہ مشرقی شام کے باقی ماندہ چھوٹے سے رقبے پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکے۔

میں اذیت میں مبتلہ ہوں

ثنا ابراہیم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’داعش سے قبل، میں پُرسکون زندگی بسر کر رہی تھی۔ درست ہے کہ مجھے اپنے بچوں کی فکر رہتی تھی، لیکن مجھے اطمینان تھا۔ اب میں اذیت جھیل رہی ہوں۔ مجھے اپنے گھر پر چھوٹے بچوں اور بڑے بوڑھوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG