رسائی کے لنکس

logo-print

پابندی کے باوجود محرم کا جلوس نکالنے پر بھارتی کشمیر میں گرفتاریاں


بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں کی گئیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام سری نگر میں پابندی کے باوجود محرم کا جلوس نکالنے پر کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر ملک بھر میں محرم کے جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں جمعے کو آٹھ محرم کے ماتمی جلوس پر پابندی لگا دی گئی ہے اور پولیس اور نیم فوجی دستوں نے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق سری نگر شہر کے کئی پولیس تھانوں کے تحت علاقوں میں دفعہ 144 بھی لگا دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر لگائی گئی ہیں۔

جمعے کی دوپہر کچھ عزاداروں نے اس پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے تعزیتی جلوس نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کے خلاف طاقت استعمال کی اور کئی عزاداروں کو گرفتار کر لیا۔

بدھ کو اسی طرح کے ایک واقعے میں شیعہ اکثریتی علاقے بڈگام میں متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پندورنگ کے پولے نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ کووڈ 19 سے اموات اور وبا کے نئے کیسز میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر پوری وادی میں محرم کے جلسے اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔

انہوں نے اپیل کی کہ عوام خود کو اور دوسروں کو جان لیوا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔

پولیس نے بھی عزاداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلسے اور جلوسوں کا اہتمام نہ کریں اور چار دیواری میں منعقد ہونے والی مجالس کے دوران بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

شیعہ مذہبی تنظیموں نے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ کووڈ 19 کے پیش نظر اس سال محرم کے تعزیے اور ذوالجناح کے جلوس نہیں نکالے جائیں گے، اور نہ ہی امام بارگاہوں میں بڑی مجالس کا اہتمام کیا جائے گا۔ تاہم بعض با اثر افراد اور ان کے حامیوں نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے تعزیے نکانے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

بھارتی کشمیر میں تقریباً 31 سال پہلے مسلح تحریک کے آغاز پر حکومت نے محرم کی آٹھ اور 10 تاریخ کو سری نگر میں روایتی راستوں سے ماتمی جلوس نکالنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف انڈیا (فائل فوٹو)

ماضی میں حکام نے بارہا یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر واقعہ کربلا کی یاد میں تعزیتی جلوس نکانے کی اجازت دی گئی تو استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن انہیں بھارت مخالف مظاہروں میں بدلنے کی کوشش کریں گے جس سے امن و امان میں رخنہ پڑے گا۔

اس ہفتے کے وسط میں پولیس نے سری نگر میں دو نوجوانوں کو ماتمی جلوس کے دوران کشمیر کی آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

ماضی میں شیعہ مسلمانوں کو شہر کے اُن علاقوں میں، جہاں وہ اکثریت میں آباد ہیں، بعض ضوابط کے تحت جلسے منعقد کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مفادِ عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ جلوس کی اجازت دینے سے ملک میں افراتفری پیدا ہو گی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اس سے ایک مخصوص فرقے پر کرونا وبا پھیلانے کا الزام آئے گا اور لامحالہ مذہبی بنیاد پر تشدد کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں مجالس عزا پر بھی پابندی عائد ہے۔ البتہ سماجی فاصلے اور چند افراد کے ساتھ گھروں میں مجالس منعقد کی جا رہی ہیں۔

عدالت میں یہ درخواست لکھنؤ کے معروف شیعہ عالم دین مولانا قلب جواد نے دائر کی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے کرونا وبا کے دوران ہی پری کے جگن ناتھ مندر سے متعلق رتھ یاترا کی اجازت دی تھی۔ لہذٰا محرم کے جلوس نکالنے کی بھی اجازت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ مذکورہ اجازت صرف ایک علاقے کے لیے تھی۔ یہاں مسئلہ پورے ملک کا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل عظیم ایچ لشکر نے کہا کہ جین مت سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک مذہبی تقریب کا اہتمام کرنے کے لیے بھی عدالت نے اجازت دی تھی۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یہ اجازت ممبئی شہر کے تین مندروں کے لیے تھی۔

درخواست گزار نے صرف لکھنؤ میں محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت طلب کی تو عدالت نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رُجوع کرنے کا حکم دیا۔

جامعہ اہل بیت نئی دہلی کے بانی اور معروف شیعہ عالمِ دین مولانا محمد عسکری نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم سے بات کرتے ہوئے حکومت کے احکامات اور عدالت کے فیصلے پر سخت رد عمل ظاہر کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ صاحبِ اقتدار طبقات پر اختیار کا نشہ ہے۔ وہ جو چاہیں حکم دیں اور جو چاہیں فیصلہ سنائیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت کبھی کہتی ہے کہ اگر دو افراد کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے تو کوئی بات نہیں، تو کبھی کہا جاتا ہے کہ کسی بھی پروگرام میں صرف پانچ افراد ہونے چاہئیں۔ اب پانچ افراد کے قانون کی کیا منطق ہے، سمجھ سے بالا تر ہے۔"

عدالت سے دوبارہ رُجوع کے سوال پر مولانا عسکری کا کہنا تھا کہ بھارت میں عدلیہ کے جو حالات ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ یہاں ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، ورنہ حالات ایمرجنسی جیسے ہی ہیں۔ لہٰذا عدالت میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس سے ہمیں کوئی امید نہیں۔

شیعہ جامع مسجد کشمیری گیٹ دہلی کے امام مولانا محسن تقوی نے کہا کہ اگر سماجی فاصلے اور حکومت کی رہنما ہدایات کے تحت جلوس نکالے جائیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ لیکن اب جب کہ سپریم کورٹ نے اجازت دینے سے انکار کیا ہے تو ہمیں اسے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

معروف اسلامی اسکالر اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اختر الواسع نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ہم اس طرح عزاداری نہیں کر رہے ہیں جس طرح روایتی طور پر ہوتی رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ "ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرونا وائرس بھی پہلی بار وبائی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ اور سپریم کورٹ نے جو موقف اختیار کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس پر پہلے سے ہی مسلمان اپنا ذہن بنا چکے تھے۔"

خیال رہے کہ بھارت میں کرونا وبا کے آغاز پر بعض حلقوں نے وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار تبلیغی جماعت کو ٹھیرایا تھا جس کے بعد صورتِ حال کشیدہ ہو گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG