رسائی کے لنکس

یہ ہمارا ریڈیو کا ابتدا ئی زمانہ تھا جب شوق اور جنون زیادہ تھا اور کام آتا نہیں تھا بس مائیکروفون پر بولنے کا بہت شوق تھا اور نئے نئے اناؤنسر بنے تھے۔ آپ سوچئے ساٹھ کی دہائی کا آخری دور، جو صدر ایوب خان کا انتہائی جاہ و جلال کا زمانہ تھا۔ وہ ہر ماہ قوم سے خطاب فرمایا کرتے تھے جو ریڈیو پر باقاعدہ نشر ہوتا تھا اور اسکے لئے اوپر سے نیچے تک کیا افسر کیا ماتحت، سب اٹین شن ہوا کرتے تھے۔

لیکن آب ہماری جرات اور ہمت دیکھئے کہ ہم نے ان کی ایک تقریر، جو نشر ہو رہی تھی، عین درمیان میں کاٹ دی۔ اب آپ اسے ہماری سادہ لوحی، لاعلمی یا بے وقوفی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن جناب زیر تربیت اناؤنسر خالد حمید نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔ اب اصولاً تو ہمیں باقی زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنی چاہئے تھی لیکن ہوا کیا، تفصیل سے پہلے پس منظر اور تمہید اس لئے کہ اگر پوری کہانی نہیں سنیں گے تو مزہ نہیں آئے گا۔

1963 میں اپنے سکول کی طرف سے ایک تقریری مقابلے میں شرکت کے لئے میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی چار دیواری میں پہلی مرتبہ داخل ہوا اور اس کی فضا اور خوشبو ایسی بھائی کہ بس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی دنیا کا ہو رہا۔ مقابلے میں مجھے اوّل قرار دیا گیا اور کرنل شفیق الرحمان کے ہاتھوں یہ اعزاز حاصل کرنے کا شرف ملا۔

طنزو مزاح کے معروف مصنف جناب کرنل شفیق الرحمان اس مقابلے کے صدر تھے، جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور بعد میں ترقی کرتے کرتے جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ انکی مشہور تصانیف میں حماقتیں، مزید حماقتیں اور بہت سی دوسری شامل ہیں۔

انعام کے علاوہ پانچ روپے نقد ملے اور ساتھ ہی پروگرام کے بھائی جان جناب مظفر اکبر آبادی نے ہماری آواز اور انداز کی تعریف کی اور اس ہفتہ وار پروگرام میں باقاعدہ شرکت کی دعوت بھی دے ڈالی۔

ہمارا آواز و انداز کا امتحان ہوا اور کامیاب ہو گئے۔ ہمیں اور کیا چاہیے تھا۔ بچوں کے پروگرام میں ہر ہفتے شرکت اور پانچ روپے جیب خرچ ملنے لگا۔ کچھ رقم اماں جان کو دے دیتے باقی تعلیمی اخراجات اور کھانے پینے کے لئے کافی تھی۔ بہت مزے ہو گئے، دوستوں کے ساتھ خوب فلمیں دیکھتے اور موج میلہ کرتے۔

یہ سلسلہ تقریباً چار یا پانچ سال چلتا رہا یہاں تک کہ آواز بھی کچھ بھاری ہونے لگی بچوں والی نہ رہی۔

کچھ درمیانی سی ہو گئی اب ہماری کوشش تھی کہ جلدی سے ہمیں یا تو بڑوں کے پروگرام یا ڈراموں کے لئے منتخب کر لیا جا ئے یا اناؤنسر بنا دیا جا ئے۔ اصل وجہ یہ تھی کہ اس میں معاوضہ زیادہ تھا اور مواقع بھی بہت تھے اپنے فن کے اظہار کے۔

لیکن بہت کوششیں کیں جو ناکام ہوئیں، کیونکہ وہ کہتے کہ ابھی آواز اس قابل نہیں ذرا اور بھاری ہو جائے۔

مایوسی کا عالم تھا ،پیارا ریڈیو چھوٹ گیا، آمدنی بھی بند ہو گئی۔

ایسے میں کسی سینئیر فنکار نے مشورہ دیا کہ آواز کی مشق کرو اور طریقہ بھی بتایا۔

لہذہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دن تھے ہم ایک کمرے میں بند ہو گئے اور چیخ چیخ کر کبھی آغا حشر کے ڈراموں کبھی زیڈ اے بخاری کی نقالی اور کبھی محمد علی کی فلموں کے مکالمے بولنے شروع کر دئے۔ 'طوائف اتنا ناچو اتنا ناچو" اور 'کبھی جج صاحب میرے بیس سال لوٹا دو' وغیرہ وغیرہ

پھر کبھی ریڈیو پاکستان کے شکیل احمد کی آواز میں پینسٹھ کی جنگ کی خبریں دوہرانا شروع کر دیں۔

گھر والوں نے پہلے سمجھا کہ ذہنی توازن بگڑ گیا ہے مگر جب کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ جنونی کیفیت ہے۔ غرض کئی دن کی مشق کے بعد اچانک یوں لگا کہ گلا کھُل سا گیا ہے اور بولنے میں فرق محسوس ہوا۔

فوراً ریڈیو بھاگے، پہلے ساتھیوں کو آواز سنوائی اور جب ان کی تائید حاصل ہو گئی تو پھر مرحلہ تھا آڈیشن یعنی آواز کے امتحان کا۔

ریڈیو پریزنٹیشن کے انچارج جناب یعقوب صاحب نے کوشش کروا کے ایک آڈیشن کی تاریخ مقرر کروادی اور بہت سے امیدواروں کو بلایا گیا، ہم بھی ان میں موجود تھے۔کچھ لوگ اگلے مرحلے کے لئے چن لئے گئے اور یوں ہوتے ہوتے ایک دو لوگ ہی رہ گئے جن میں ہم بھی شامل تھے

فائنل آڈیشن، سٹیشن ڈاریکٹر ،جناب شیخ حمید صاحب نے سننا تھا لیکن ہماری قسمت کہ انکے پاس وقت ہی نہیں تھا اور پھر جب انہوں نے پوچھا کہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ خالد حمید بھی ہے تو انہوں نے کہا وہ بچوں کے پروگرام والا، کہا ہاں تو فرمایا وہ تو ابھی بچہ ہے اس پر بڑی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی۔ سب ماتحت خاموش ہو گئے۔

اب مسئلہ یہ تھا ایک سینیئر اور مقبول اناؤنسر اظہر لودھی صاحب، ریڈیو چھوڑ کر ٹٰیلیوژن جا چکے تھے، جو اس وقت راولپنڈی میں شروع ہو رہا تھا۔ ان کے بعد ایک سینئیر اناؤنسر فیاض شاہین اور ایک جونیئیر اناؤنسر ہمایوں بشیر رہ گئے تھے، کام زیادہ تھا اور بندے کم۔ ادھر ہم روز سائیکل پر ریڈیو پاکستان کے چکر لگاتے رہتے کہ شاید ہماری قسمت کا فیصلہ ہو جائے لیکن نہیں جناب گتھی پھنس گئی تھی۔ آخر کار ایک مہینے کی مسلسل دوڑ سے ہم تھک گئے اور وہاں لوگ بھی بیچارے بہانے کر کر کے تنگ آگئے تو ہماری غیرت نے جوش مارا اور کہا کہ اب ضرورت ہو گی تو خود بلائیں گے ہم بھکاری کیوں بنیں۔

گھر بیٹھ گئے، کئی دن گزر گئے، تو ہمارے پڑوس میں ایک ریڈیو پروڈیوسر خلیل انصاری رہا کرتے تھے، وہ گھر آئے اور کہا تم کہاں غائب ہو تمہیں ریڈیو والے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اب یہ انتہائی خوشی کی خبر تھی لیکن ہم نے مصنوعی طور پر بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت چکر لگائے ہیں وہ لوگ دلچسپی نہیں لیتے۔ بس اب نہیں جاؤنگا۔

پھر خلیل صاحب نے ذرا خوشامدانہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کی کہ نہیں سب کچھ ہو گیا ہے تمہیں اب کام کرنا ہے، بس فوراً جاؤ۔

تو جناب رات جیسے تیسے گزاری اور صبح ہوتے ہی بھاگے تو وہاں منظر بدل چکا تھا، یعقوب صاحب نے بڑی گرم جوشی اور محبت سے استقبال کیا اور کہا اوئے توں کتھے چلا گیا سی؟ تینوں سارے لب رئے نیں۔

پتہ یہ لگا کہ فیاض شاہین نے جان بوجھ کر چھٹی لے لی تاکہ ہمیں موقع مل سکے اور کہا کہ اس بچے کو بلائیں۔

اب یعقوب صاحب ایک مرتبہ پھر ہمارے آڈیشن کا ٹیپ لیکر شیخ حمید صاحب کے کمرے میں گئے اور انہیں صورتحال بتا کر کہا کہ جناب یہ سن لیں، کیونکہ ہمیں ایک اناؤنسر کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے پھر کہا کہ بھئی وہ بہت چھوٹا ہے۔ تو پھر وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا کہ نہیں سر اس کی آواز میچور ہے۔ آپ ایک مرتبہ سن لیں۔

غرض وہ راضی ہوئے اور جب ٹیپ سنی تو کہا کہ ہاں آواز کلچرڈ ہے، ٹھیک ہے لیکن ابھی صرف دو چار دن کے لئے بلاؤ تاکہ تربیت ہو جائے۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے مائک پر ایک یادگار تصویر
ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے مائک پر ایک یادگار تصویر

تھوڑے کو غنیمت جانا گیا اور ہمیں اسی شام کو اناؤنسمنٹ کی ڈیوٹی دے دی گئی۔ اب ہم نے بہت شوق سے کام شروع کر دیا، دو چار دن سے پھر ہفتے بھر کی ذمےداری دے دی گئی۔ اور طے یہ ہوا کہ ایک ہفتے کا کانٹریکٹ ہو گا اور ایک ہفتہ بلا معاوضہ کام کریں گے تاکہ تربیت ہو سکے۔ ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا بس ریڈیو سے رابطہ رہنا چاہئے

فیاض شاہین صاحب جو چھٹی سے واپس آگئے تھے، اب احسان جتانے کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فرمایا کرتے تھے بلکہ چائے پلانے کی فرمائش زیادہ ہوتی تھی اور وہ بھی ان کا خاص انداز تھا کہتے کہ جا بچے ایک ہاف سیٹ کا آرڈر دے آ۔ یعنی دو کپ۔ اب کینٹین والا ایک ٹرے میں دو کپ ایک چائے دانی اور ایک دودھ دان لاتا اور ڈیوٹی روم میں رکھ جاتا۔ شاہین صاحب بڑے پیار سے چائے بناتے۔

ایک کپ ڈیوٹی افسر کو دیتے ایک ہمیں دیتے اورباقی چائے دودھ دان میں انڈیل کر تیسرا کپ اپنے لئے بناتے اور اسی میں پی لیتے، یعنی مفت کی چائے، بڑے درویش آدمی تھے، اللہ غریقِ رحمت کرے۔ آمین

اب انکی مہربانی یا شفقت کا انداز یہ ہوتا کہ اپنی شام کی ڈیوٹی میں، جب بھی موقع ہوتا، ہمیں ریڈیو کنٹرول پینل پر بیٹھا جاتے اور کہتے، چل وئی ننڈے شروع ہوجا (چل بھئی لڑکے کام شروع کردے) یعنی میں خود ہی کنسول کو کنٹرول کروں اور خود ہی اناؤنسمنٹ کروں۔

بس ہماری عید ہوجاتی، یوں لگتا کہ کسی نے اپنی گاڑی ہمیں چلانے کو دے دی۔

ریڈیو کا کنٹرول پینل یوں لگتا تھا اُس وقت، جیسے جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھ گئے، آواز اوپر نیچے کرنے، ٹیپ یا فلمی گانے چلانے اور انہیں کنٹرول کرنے کے لئے بے شمار بٹن اور فیڈر لگے ہوئے تھے۔

ایک طرف بڑے بڑے ٹیپ ریکارڈر دوسری طرف ریکارڈ پلیئر اور آپ کے اختیار میں سب کچھ۔ اب تو بڑے بڑے خوبصورت آڈیو سسٹم آگئے ہیں، لیکن اس وقت ہمارے لئے یہی بہت عجوبہ تھا۔

ریڈیو انجینئر بھی عموماً، اناؤنسر پر ہی بھروسہ کرتے اور خود کنٹرول روم میں بیٹھتے تھے۔

ایسی ہی ایک شام تھی، ہمارا ایک ہفتے والا کانٹریکٹ ختم ہو چکا تھا، اور ہم بس شوق میں چکر لگا رہے تھے، ریڈیو پنڈی کے خوبصورت سبزہ زار میں، جشنِ موسیقی بپا تھا، جس میں مہدی حسن، اقبال بانو، فریدہ خانم اور پاکستان کے تقریباً تمام نامور فنکار اپنے فن کا جلوہ دکھا رہے تھے۔

حاضرین میں وفاقی وزیرِ اطلاعات سمیت متعدد وزراء افسران اور شہر کی معزز شخصیات، موسیقی سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔

لیکن ہماری منزل تو اسٹوڈیو تھا لہٰذہ ہم، اس محفل کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھے وہاں پہنچے۔ فیاض شاہین نے ہمیں دیکھتے ہی خوشی سے نعرہ لگایا اور کہا، آجا آجا وے ننڈے، بے جا ایتھے میں جاریاں ذرا موسیقی سنن۔

ہم نے جلدی سے نشست سنبھالی، ہیڈ فون سر پر لگایا اور پروگرام شیٹ پر نظر ڈالی۔ اس وقت کراچی سے قومی پروگرام جاری تھا۔ یہ تقریباً ایک گھنٹے کا پروگرام ہوتا تھا، جس میں قومی خبریں تبصرے اور دوسری اہم بات چیت نشر کی جاتی تھی۔ جیسے ہی کراچی کا اناؤنسر یہ کہتا کہ قومی پروگرام پیش کیا گیا ہم فوراً اسے کٹ کر کے اپنی مقامی نشریات کا اعلان کرتے اور غزلیں یا گیت وغیرہ چلا دیتے۔

یہ وقت ہوتا تھا، جب ہمیں بولنے کا موقع ملتا تھا، جس کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔ اور یہ ہی ہوا۔ وہاں سے اناؤنسر نے جیسے ہی کہا یہ ریڈیو پاکستان ہے آپ قومی پروگرام سن رہے تھے، اس کی مزید بات سنے ہم نےکراچی کی لائن کاٹ کر اناؤنسمنٹ شروع کی اور شاہدہ پروین کا گیت چلا دیا۔

وہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ ڈیوٹی انجینئر اسٹوڈیو میں آیا اور کہا کہ آپ کیا چلا رہے ہیں ،میں نے کہا کہ جو لوکل پروگرام ہے، شیٹ کے مطابق وہ چلا رہا ہوں۔ کہنے لگے کہ لیکن کراچی سے تو ابھی ایوب خان کی تقریر چل رہی ہے۔ قومی پروگرام جاری ہے۔ میں نے کہا کہ انہوں نے تو اناؤنسمنٹ کی تھی اسکے بعد میں نے پروگرام شروع کیا۔ وہ کہنے لگے لیکن انہوں نے پروگرام ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا اور اسکے بعد یہ تقریر شروع ہوئی ہے۔ اب ہمارے پیروں تلے زمین نکل گئی، حلق خشک ہو گیا اور چہرہ فق ہو گیا۔

ایوب خان،صدرِ پاکستان کی تقریر کٹ گئی، یہ کیا حماقت ہو گئی۔

ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ انجینئیر صاحب نے ڈیوٹی آفیسر برکت اللہ کو سٹوڈیو میں بلا لیا اور سارا معاملہ بتایا، ان کو کچھ علم نہیں تھا کیونکہ وہ سب موسیقی کی محفل میں مصروف تھے خبر فیاض شاہین تک پہنچی تو وہ بھی بھاگے آئے، ساتھ ہی ہمایوں بشیر میرا ساتھی اور مرحوم دوست بھی آگیا۔ وہ مجھے ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا ابے یہ کیا کیا تو میں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ وہ کہنے لگا یار یہ کوئی مذاق ہے تو ہنس رہا ہے۔ ان سب کے سامنے نہ ہنسنا، سب کی جان پے بنی ہے اور تو ہنس رہا ہے۔ میں نے کہا کہ ڈر تو شروع میں بہت لگا لیکن اب کیا ہو سکتا ہے۔تو پھر اس نے بھی ہنسنا شروع کر دیا کہنے لگا یار تو بچہ ہی ہے۔

ادہر ان لوگوں نے بغیر سوچے اور کسی اعلان کے شاہدہ پروین کی آواز کا گلا دبا کر تقریر فوراً آن ایئر کردی۔

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ واقعہ کی رپورٹ کی جائے کہ نہیں،کیونکہ رپورٹ کی صورت میں سب کی شامت آتی۔ ڈیوٹی افیسر، انجینئر، اور اناؤنسر فیاض شاہین کی۔

ہم بالکل بری الذمہ تھے کہ اسلئے کہ ہمارا نہ ہی کانٹریکٹ تھا نہ ہی ڈیوٹی، بالکل آوٹ سائڈر تھے۔ ڈیوٹی افسر اور اناؤنسر سے پوچھا جاتا کہ آپ نے ایک بچے کو اتنی بڑی ذمہ داری کیوں دی جس کی ڈیوٹی بھی نہ تھی۔

ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ ہمیں آئندہ نہ بلایا جائے، لیکن ان سب کی جواب طلبی ہوتی اور کسی ایک کو سزا بھی ملتی۔

تھوڑی دیر انتظار کیا گیا کہ کہیں کسی بڑے افسر کا فون تو نہیں آیا۔

اب میری قسمت کہ باہر محفلِ موسیقی چل رہی تھی اور تمام سرکردہ افسر اور وزیر فریدہ خانم اور اقبال بانو کے گیتوں اور مہدی حسن کی غزلوں سے محظوظ ہورہے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ تقریر نشرِ مکرر کے طور پر چل رہی تھی۔اصل خطاب ایک دن پہلے ہو چکا تھا۔

ہر مہینے کا یہ خطاب تھا جس کی بڑی تیاری ہوتی تھی اور دوسرے دن اس لئے پیش کیا جاتا تھا کہ کوئی سننے سے محروم نہ رہ جائے۔ لیکن افسوس کہ سوائے ذمےدار افسران کے کوئی نہیں سنتا تھا۔

لہٰذہ فیصلہ یہ ہوا کہ رپورٹ نہ لکھی جائے، کیونکہ یہ پھنسنے والی بات تھی، کل تک دیکھا جائے اگر کسی نے صبح کی سر کاری میٹنگ میں کوئی تذکرہ کیا تو معافی تلافی کر لیں گے ورنہ معا ملہ گول۔

ہمیں تو فوراً برکت اللہ، ڈیوٹی آفیسر نے نکال دیا کہ بچے تو فوراً یہاں سے کلٹی ہو جا اور جب تک بلایا نہ جائے، ریڈیو میں داخل نہ ہونا۔ بہت ہی پیارا اور ہمدرد دوست تھا، اسے خیال تھا کہ میں کہیں مارا نہ جاؤں، اس لئے ساری ذمے داری خود پر لے لی۔

ہم نے اپنی سائیکل پکڑی اور اندھیری سڑک پر سوچ میں غلطاں گھر کی طرف روانہ ہوئے اور سمجھ لیا کہ بس بیٹا، یہ آخری دن تھا، آمدنی بھی گئی اور شوق بھی غارت ہوا۔

زیادہ افسوس ریڈیو چھٹنے کا تھا۔ جو ہماری زندگی تھا۔

کئی دن گزر گئے کوئی خبر نہیں آئی، پھر ایک دن برکت کو فون کیا کہ چمن والوں پر کیا گزری، تو اس مرحوم، پیارے دوست نے بتایا کہ ہاں معاملہ کچھ سنبھل ہی گیا۔کچھ لوگوں نے سنا تھا مگر کسی نے رپورٹ نہیں کی اور ایسا ہوا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

میرے بارے میں اس نے کہا کہ کوشش ہو رہی ہےکہ تجھے زیادہ دنوں کا کانٹریکٹ دیا جائے تاکہ سٹاف کی کمی پوری ہو۔

اور پھر ایک دن بلاوا آگیا اور ہمیں مستقل کانٹریکٹ دے دیا گیا،

میری ماں کی دعائیں کام آئیں، جو مجھ سے زیادہ پریشان تھیں۔

اور یوں تقریر تو کٹ گئی، مگر تقدیر بن گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG