رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپ میں روہنگیا مسلمانوں کی پہلی عید الاضحی


بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی کیمپ میں عیدالاضحی کی نماز ادا کی جا رہی ہے۔ 22 اگست 2018

بنگلہ دیش میں واقع دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ میں بدھ کے روز روہنگیا مسلمانوں نے عید الاضحی منائی ۔میانمر میں فوجیوں کی سفاکانہ اور بے رحمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا نسل کے لوگوں کو اب یہاں ایک سال ہو گیا ہے۔

کاکسس بازار کے قریب کٹوپالونگ کے پہاڑی علاقے میں عارضی گھروں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کی تعداد 10 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

پناہ گزینوں نے اپنے مذہبی تہوار کا آغاز عید کی نماز سے کیا اور اس کے بعد ان پناہ گزینوں نے، جن کے پاس کچھ رقم تھی، سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے بکریوں اور گائیوں کی قربانی دی۔

روہنگیا پناہ گزین عیدالاضحی پر قربانی کے لیے گائے خرید رہے ہیں۔ 21 اگست 2018
روہنگیا پناہ گزین عیدالاضحی پر قربانی کے لیے گائے خرید رہے ہیں۔ 21 اگست 2018

میانمر کی فوج نے، جنہیں بودھ ملیشیاؤں کی مدد حاصل تھی، پچھلے سال اگست میں عید الاضحی سے چند دن پہلے پہاڑی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کی آبادیوں پر بے رحمانہ حملے شروع کر دیے تھے۔

سید حسین، جنہوں نے پچھلے سال عید راکھین میں منائی تھی، اپنی بستی پر فوجیوں کی یلغار کے بعد جان بچا کر بنگلہ دیش بھاگ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میانمر میں ہم گائے کی قربانی نہیں دے سکتے۔ وہاں ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، لیکن یہاں بنگلہ دیش میں ہم گائیوں کی قربانی دے سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔

ایک اور پناہ گزین محمد جاسم نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہماری یہ عید، میانمر کی تمام عیدوں سے زیادہ اچھی ہے۔ یہاں ہمارا اور ہمارے رشتے داروں کا وقت بہت اچھا گزر رہا ہے۔

چاہے پناہ گزین کیمپ ہی کیوں نہ ہو، بچے تو عید پر اپنے ارمان پورے کرتے ہیں۔ 22 اگست 2018
چاہے پناہ گزین کیمپ ہی کیوں نہ ہو، بچے تو عید پر اپنے ارمان پورے کرتے ہیں۔ 22 اگست 2018

کاکسس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کیمپ قائم ہونے سے وہاں کے کاروباروں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سال عید الاضحی کے موقع پر مویشیوں کی مقامی منڈیوں میں پچھلے سال کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں بکریاں اور گائے فروخت ہوئی ہیں۔

اختر حسین مویشیوں کا کاروبار کرتے ہیں ۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ پچھلے سال میں نے پچھلے سال عید پر15 گائیں بیچی تھیں، جب کہ اس سال میں اب تک 50 گائیں فروخت کر چکا ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG