رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے لڑاکوں کا سر قلم، افغان صدر کے تفتیش کے احکامات


صوبہٴ ننگرہار میں اتوار کے روز دولت اسلامیہ کے چار لڑاکوں کے تن سے جدا سر چوراہے پر رکھے گئے تھے۔ ادھر افغان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ حقیقت بیان کیے بغیر کہ افغان دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو ناپسند کرتے ہیں، وہ ماورائے عدالت اور انسانیت سوز حرکات کی حمایت نہیں کرتے‘

افغانستان کے صدر نے ایک معروف قانون ساز کی وفادار میلشیا کی جانب سے داعش کے چار لڑاکوں کے سر قلم کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ سرکاری ترجمان نے پیر کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ افغان صدر نے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے احکامات دیے ہیں۔

صوبہٴ ننگرہار میں اتوار کے روز دولت اسلامیہ کے اِن لڑاکوں کے تن سے جدا سر چوراہے پر رکھے گئے تھے۔ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اِن ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر، ظاہر قادر کی وفادار میلشیا کے ارکان علاقے میں کئی ہفتوں سے داعش سے منسلک مسلح افراد کے ساتھ لڑتے رہے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق، حالیہ دِنوں کے دوران، دولت اسلامیہ کے ارکان نے میلشیا کے چار ارکان کو پکڑ لیا تھا، جن کے سر قلم کیے گئے، جس پر ملیشیا نے جوابی طور پر ضلعہٴ اچین میں داعش کے چار مسلح افراد کو ہلاک کیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے عدالتی تفتیش کے احکامات دیے ہیں۔

ایک سرکاری ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ’یہ حقیقت بیان کیے بغیر کہ افغان دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو ناپسند کرتے ہیں، وہ ماورائے عدالت اور انسانیت سوز حرکات کی حمایت نہیں کرتے‘۔

افغانستان کی آزاد ’ہیومن رائٹس کمیشن‘ نے بھی ان ماورائے عدالت ہلاکتوں کی مذمت ہے اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

کئی ایک افغان سیاست دانوں اور قانون سازوں نے بھی اِن ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ جنوبی ہیلمند سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز، عبدالجبار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ ایسی ہلاکتیں بین الاقوامی اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں، اور بقول اُن کے، ’جو کوئی بھی ایسی حرکات میں ملوث پایا جائے اس کی مذمت لازم ہے‘۔

قانون ساز، قادر نے گذشتہ ماہ ملک کے قومی سلامتی کے مشیر پر افغانستان میں داعش کے شدت پسندوں کو حمایت فراہم کرنے کا الزام لگایا تھا، جس دعوے کی حکومت افغانستان نے سختی سے تردید کی تھی۔ اُن کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ داعش سے لڑنے پر مامور 1000 نفوس پر مبنی علاقائی پولیس فورس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سنہ 2014 کے صدارتی انتخابات کے دوران، قادر اشرف غنی کے قریبی حامی تھے۔ اُن کے والد کابینہ کے سابق رکن تھے، جنھیں سنہ 2002میں کابل میں قتل کر دیا گیا تھا۔

حالیہ دِنوں، ننگرہار کے مختلف حصوں میں داعش کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کا پتا چلتا رہا ہے۔ ضلعہٴ اچین دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا مضبوط ٹھکانہ خیال کیا جاتا ہے۔ وہ کئی بات افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں کر چکے ہیں۔


XS
SM
MD
LG