رسائی کے لنکس

logo-print

ناسا، بوئنگ کے ناکام خلائی مشن کی تحقیقات کرے گا


امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے دسمبر میں طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے 'سی ایس ٹی 100 اسٹار لائنر آسٹرونوٹ' خلائی کیپسول کے خلائی اسٹیشن تک پہنچنے میں ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے آزادانہ تحقیقات کا اغاز کردیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ناکامی کی وجہ خلائی کیپسول کے سافٹ ویئر میں اچانک پیدا ہونے والی خرابی بتائی گئی ہے۔

بوئنگ اور ناسا نے ایک معاہدہ کر رکھا ہے۔ جس کے تحت بوئنگ خلائی کیپسول کے ذریعے زمین کے مدار میں گردش کرنے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشنز پر خلا نوردوں کو بھیجے گا۔

اس ضمن میں بوئنگ نے 'سی ایس ٹی 100 اسٹار لائنر آسٹرونوٹ' خلائی کیپسول تیار کیا تھا۔ جس میں سات خلا نوردوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

یہ خلائی کیپسول گزشتہ ماہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ کیا گیا تھا۔ لیکن بغیر خلانوردوں کے بھیجا گیا یہ کیسول واپس زمین پر اُتر گیا تھا۔

البتہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر نہ پہنچنے میں ناکامی کی تحقیقات اب ناسا کرے گا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ جو اس بات کا تعین کرے گی کہ ٹائمر خراب ہوا یا سافٹ ویئر میں نقص پیدا ہوا۔

ناسا کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحقیقات سے اگلے مرحلے میں بھیجے جانے والے مشن میں خرابیوں کو دُور کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اس تحقیق میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

ناسا حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا کہ بوئنگ اب خلا نوردوں کے ہمراہ خلائی کیپسول کب خلائی اسٹیشن میں بھیجے گا۔ کیوں کہ اس مد میں کروڑ ڈالر لاگت آتی ہے۔

ناسا اور بوئنگ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ راکٹ کے ذریعے بھیجے جانے والا خلائی کیپسول خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن پر پہنچانے کے علاوہ اس کے ساتھ منسلک بھی ہو سکے۔

خیال رہے کہ بوئنگ کمپنی میکس 737 طیاروں کے حادثات اور ان میں موجود نقائص کے باعث پہلے سے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ تاہم خلائی کیپسول کی ناکامی کی وجہ سے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ناسا نے اپنے اخراجات میں کمی کے لیے 2014 میں بوئنگ کے ساتھ 4.2 ارب ڈالر جبکہ 'اسپیس ایکس' نامی کمپنی کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کے معاہدے کیے تھے۔ جس کے تحت ان کمپنیوں کے اشتراک سے راکٹ اور خلائی کیپسول استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بوئنگ کا خلائی کیپسول شیڈول سے چھ روز قبل ہی میکسیکو کے صحرائی علاقے میں کامیابی سے اُتر گیا تھا۔ بوئنگ نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ 2020 میں اپنے خلائی کیپسول کے ذریعے خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن بھجوانے کا سلسلہ شروع کر دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG