رسائی کے لنکس

فنا ہوتے ہوئے ستارے کی حیرت انگیز اور سنسنی خیز تصویر


ناسا کی جانب سے جاری کردہ فنا کے مرحلے میں داخل ہونے والے ستارے کی تصویر۔ یہ ستارہ سورج سے 30 گنا بڑا اور زمین سے 15 ہزار نوری سال کے فاصلے پر گردش کررہا ہے۔
ناسا کی جانب سے جاری کردہ فنا کے مرحلے میں داخل ہونے والے ستارے کی تصویر۔ یہ ستارہ سورج سے 30 گنا بڑا اور زمین سے 15 ہزار نوری سال کے فاصلے پر گردش کررہا ہے۔

ناسا کی خلائی دور بین ویب اسپیس نے حال ہی میں ایک ایسے ستارے کی تصویر اتاری ہے جو فنا ہونے کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ چمکتا ہوا ستارہ زمین سے 15 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سورج سے 30 گنا بڑا ہے جس میں 10 سورجوں کے مساوی مواد روشنی اور حرارت کی لہروں میں تبدیل ہو کر خلا میں بکھر چکا ہے۔ایک نوری سال تقریباً ساڑھے 9 ٹریلین کلومیٹر کے مساوی ہوتا ہے۔

کائنات میں لاتعداد ستارے، سیارے اور دوسرے اجرام فلکی ہیں جن میں سے کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم ہونے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں تو دوسری طرف نئے سیارے اور ستارے جنم لے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ نامعلوم مدت سے چل رہا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کب تک جاری رہے گا۔

ماہرین فلکیات کی ایک بڑی تعداد اس نظریے سے اتفاق کرتی ہے کہ کہکشائیں ، ستارے اور ان کے شمسی نظام وجود میں آنے سے پہلے کائنات کی لا محدود وسعتوں میں ایک بہت بڑا گولہ موجود تھا جو اربوں نوری سال پہلے اپنے اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ کر بکھر گیا جس کے نتیجے میں کہکشائیں اور ستارے وجود میں آئے۔ یہ تمام نظام رفتہ رفتہ دوبارہ ایک گولے کی شکل اختیار کر لیں گے۔

ویب اسپیس سے لی جانے والی اس تصویر میں ایک نئے ستارے کی پیدائش کا عمل دیکھا جا سکتا ہے۔ خلائی بادل ایک نکتے پر مرکوز ہو رہے ہیں۔
ویب اسپیس سے لی جانے والی اس تصویر میں ایک نئے ستارے کی پیدائش کا عمل دیکھا جا سکتا ہے۔ خلائی بادل ایک نکتے پر مرکوز ہو رہے ہیں۔

کائنات کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سائنس دان اس کی پیمائش کے لیے نوری سال کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک نوری سال اس فاصلے کو کہتے ہیں جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ یاد رہے کہ روشنی کی لہریں ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ 86 ہزار میل کا سفر طے کرتی ہیں۔

ماہرین کے نظریے کے مطابق موجودہ کائنات کو وجود میں آئے 13 ارب 70 کروڑ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اور یہ نظام لگ بھگ 22 ارب سال تک قائم رہنے کا امکان ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہماری زمین کو بنے تقریباً ساڑھے چار ارب سال ہو چکے ہیں۔ آپ کائنات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کئی ستارے ہماری زمین سے اتنی دور ہیں کہ ابھی تک ان کی روشنی ہم تک نہیں پہنچی۔ اور ان میں سے کئی ستارے ایسے بھی ہیں جو ختم ہو چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم آج بھی کئی ایسے ستاروں کو آسمان پر چمکتا ہوا دیکھتے ہیں جنہیں فنا ہوئے کروڑوں سال گزر چکے ہیں۔

ویب اسپیس سے لی جانے والی اس تصویر میں ہماری کہکشاں نظر آ رہی ہے جس میں لاتعداد شمسی نظام اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔
ویب اسپیس سے لی جانے والی اس تصویر میں ہماری کہکشاں نظر آ رہی ہے جس میں لاتعداد شمسی نظام اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

ناسا نے کائنات کی مزید گہرائی میں جا کر اس کے ارتقا کا کھوج لگانے کے لیے سن 2021 دسمبر میں ویب اسپیس نامی انتہائی طاقت ور دور بین خلا میں بھیجی تھی۔ یہ دور بین زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل کے فاصلے پر سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ دوربین کا مدار ایسا ہے کہ وہ کائنات کے 39 فی صد حصے کا مشاہدہ کر سکتی ہے۔

ویب اسپیس اپنے لانچ کیے جانے کے بعد سے کائنات کی حیرت انگیز تصویریں زمینی مرکز کو بھیج رہی ہے۔ ایک فنا ہوتے ہوئے ستارے کی تازہ ترین تصویر ناسا نے منگل کے روز آسٹن سے جاری کی۔

دوربین کے انفرا ریڈ ریز پر کام کرنے والی آنکھوں نے 15 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک بہت بڑے گرم ستارے سے دھول اور گیسوں کو خلا میں بکھرتے ہوئے دیکھا۔

ویب اسپیس کی تصویر میں چیری کے پھول جیسا جامنی رنگ کا چمکتا ہوا مواد سیارے کی بیرونی تہہ سے نکل کر بکھر رہا تھا۔

خلائی دوربین ویب اسپیس کی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والے ایک تصویر جسے ایک مصور کی آنکھ سے دکھایا گیا ہے۔
خلائی دوربین ویب اسپیس کی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والے ایک تصویر جسے ایک مصور کی آنکھ سے دکھایا گیا ہے۔

آپ کو یہ تو معلوم ہو گا ہی کہ کئی عشروں قبل ہبل اسپس نامی ایک دور بین اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے خلا میں بھیجی گئی تھی ۔ یہ دور بین زمین سے تقریباً 330 میل کے فاصلے پر گردش کر رہی ہے۔ اس دور بین کو خلا میں نصب کرنے کا مقصد ستاروں اور سیاروں کی زیادہ واضح تصویریں حاصل کرنا تھا کیونکہ زمین کے کرہ ہوائی میں موجود گرد وغبار کے باعث زمینی مراکز سے زیادہ واضح تصویریں اتارنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

ہبل اسپیس نے کئی عشرے قبل اسی ستارے کی تصویریں اتاری تھیں۔ اس وقت وہ ایک دہکتے ہوئے گولے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن اس تصویر میں گہرائی اور جزیات کی تفصیل نہیں تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ ستارہ ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہا ہے جو فنا سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ یہ عمل کچھ ستاروں میں ہوتا ہے جس کے بعد وہ پھٹ کر بکھر جاتے ہیں ، جسے سائنس کی زبان میں سپر نوا کہتے ہیں۔ سپر نوا سے مراد انتہائی زور دار دھماکے اور انتہائی چمکدار روشنی کے ساتھ ستارے کا پھٹ جانا ہے۔

اس پراجیکٹ سے منسلک یورپی خلائی ایجنسی کی ایک ماہر فلکیات میکرینا گارسیا میرین نے بتایا کہ ہم نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ منظر بہت دلچسپ اور ولولہ انگیز تھا۔

ناسا کا کہنا ہے یہ ستارہ ڈبلیو آر 124 کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ہمارے سورج سے 30 گنا بڑا ہے اور 10 سورجوں کے مساوی اس کا مواد جل چکا ہے۔

  • 16x9 Image

    جمیل اختر

    جمیل اختر وائس آف امریکہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ وہ وی او اے اردو ویب پر شائع ہونے والی تحریروں کے مدیر بھی ہیں۔ وہ سائینس، طب، امریکہ میں زندگی کے سماجی اور معاشرتی پہلووں اور عمومی دلچسپی کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم مضامین تحریر کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG