رسائی کے لنکس

جنوبی افغانستان: ایک ہفتے میں تقریباً 100 افغان سپاہی ہلاک


جلال آباد

افغان حکام اور باغیوں کے حلقوں نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ صوبہ زابل کی ایک سکیورٹی چوکی پر گذشتہ رات اندرونِ خانہ حملے کا واقعہ ہوا جس میں پولیس محافظ نے اپنے ہی ساتھیوں پر بندوق تان لی

درانداز ہونے والے ایک طالبان نے جنوبی افغانستان میں گولی چلا کر چھ سرکاری سپاہیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس طرح، ایک ہفتے میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فوجی اور پولیس اہل کاروں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 100 ہوگئی ہے۔

افغان حکام اور باغیوں کے حلقوں نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ صوبہ زابل کی ایک سکیورٹی چوکی پر گذشتہ رات اندرونِ خانہ حملے کا واقعہ ہوا جس میں پولیس محافظ نے اپنے ہی ساتھیوں پر بندوق تان لی۔

اُنھوں نے چھ پولیس والوں کو ہلاک کریا، جس میں چوکی کا کمانڈر بھی ہلاک ہوگیا۔ افغان ذرائع ابلاغ نے مقامی پولیس اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بعدازاں گولی چلانے والا طالبان کے ساتھ مل گیا اور چوکی باغیوں کے حوالے کر دی۔

گذشتہ ہفتے، طالبان نے متعدد افغان فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے کیے، خاص طور پر جنوبی صوبوں میں، جس دوران سکیورٹی افواج کے بیسیوں اہل کار ہلاک و زخمی ہوئے۔

ہفتے کے روز متبرک ماہ رمضان کی یکم تاریخ کو خوست کے مشرقی شہر میں ایک طالبان خود کش حملہ آور نے کار میں لدے دھماکہ خیز مواد کو افغان 'الیٹ فورس' کے ایک قافلے سے ٹکرا دیا، جو امریکی افواج کو سکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔ دھماکے میں کم از کم 18 اہل کار ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

افغان وزارتِ دفاع کے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ سرکاری افواج نے بدلہ لینے کی کارروائی میں میدانِ جنگ میں طالبان کو کافی جانی نقصان پہنچایا۔

باغیوں نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے اس بیان کو ''مذہب سے نابلد ہونے'' کا الزام دیا جس میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ مذہبی احکامات کی حرمت کے تقاضے کے پیشِ نظر رمضان شریف میں مخاصمانہ کارروائیاں بند کی جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG