رسائی کے لنکس

logo-print

چین نیپال ریلوے لائن، سرنگ اور سڑک کی تعمیر کا منصوبہ


نیپال تبت سرحد (فائل)

چین اس بات کا خواہاں ہے کہ نیپال کے ساتھ ریلوے لائن اور سڑک کا رابطہ استوار ہو جس کے لیے ہمالیہ پہاڑ کے آرپار راستہ بنایا جائے۔ ان منصوبوں پر باریک بینی سے غور کیا جا رہا ہے، جن کے نتیجے میں چین اس جنوبی ایشیائی خطے میں قدم رکھے گا، جس سے بھارتی سرحدوں کے قریب چین کا حکمت عملی کا حامل اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔

یہ منصوبہ چین کے ’’بیلٹ اینڈ روڈ اینی شی ایٹو‘‘ کے عظیم تر منصوبے کا حصہ ہو گا۔ اس پیش رفت پر بھارت خوش نہیں ہے جبکہ ابھی تک اس چھوٹے سے ملک میں بھی رائے عامہ منقسم ہے کہ آیا اس منصوبے سے اسے فائدہ ہو گا یا پھر ملک قرضے میں پھنس کر رہ جائے گا۔

اسی ہفتے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ نیپال کے دوران ایک تاریخ ساز 20 نکاتی سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔

سمجھوتے کے تحت تبت سے کاٹھمنڈو تک ہمالیہ پار ریلوے لائن بچھانے کے لیے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، جسے بعد ازاں، لمبینی تک توسیع دی جائے گی، جو بھارتی سرحد کے قریب واقع علاقہ ہے۔

مزید یہ کہ ہمالیہ کے اندر سے سرنگ اور سڑک تعمیر ہو گی جس سے کاٹھمنڈو اور کیرنگ کو آپس میں ملایا جائے گا جو چینی سرحد کے قریب واقع قصبہ ہے۔

کاٹھمنڈو کی تری بھون یونیورسٹی میں نیپال اور ایشیائی مطالعہ کے مرکز سے وابستہ محقق، مریجندرا بہادر کارکی نے کہا ہے کہ ’’یہ ہماری تاریخ کی کایا پلٹ کی ایک مثال ہے۔ آج تک ہم جنوب کی جانب دیکھتے رہے ہیں، لیکن اب شی جن پنگ کے دورے کے بعد ہمارے لیے شمال کی جانب جھانکنا ممکن ہوا ہے‘‘۔

نیپال کی ایک جانب چین جبکہ دوسری جانب بھارت ہے۔ اپنی تجارت کے لیے بھارت کے ذریعے نیپال جنوب کی سمت کاروبار کرتا آیا ہے۔

بقول ان کے، باہمی تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد اب سرمایہ کاری کے لیے رفتہ رفتہ چین کی جانب نگاہیں اٹھتی ہیں۔ چین نے مواصلاتی رابطوں کے نئے منصوبے تعمیر کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہ متبادل راستے ہوں گے جن سے بھارت پر انحصار کم ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG