رسائی کے لنکس

logo-print

نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 4000 سے تجاوز کر گئی


امریکہ سمیت مختلف ملکوں سے امدادی و طبی ٹیمیں نیپال پہنچ گئی ہیں اور زلزلے سے زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کو طبی امداد پہنچائی جا رہی ہے

نیپال میں ہفتہ کو آنے والے طاقتور ترین زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 4000 سے تجاوز کر گئی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں افراد زلزلے سے زمین بوس ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

امریکہ سمیت مختلف ملکوں سے امدادی و طبی ٹیمیں نیپال پہنچ گئی ہیں اور زلزلے سے زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کو طبی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔

ہفتہ کی دوپہر 7.8 شدت کے زلزلے کا مرکز دارالحکومت کٹھمنڈو سے 80 کلومیٹر شمال مغرب میں پوکھار کے علاقے میں تھا اور اس کے جھٹکے بھارت، بنگلہ دیش، چین، تبت اور پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔

ابھی تک صرف کٹھمنڈو میں ہونے والی تباہی کی تفصیل سامنے آرہی ہے جہاں بڑے پیمانے پر عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں اور مواصلات کا نظام اور سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ سے دیگر علاقوں تک رسائی میں امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بعد از زلزلہ جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور لوگوں نے اپنے گھروں میں واپس جانے کی بجائے دوسری رات بھی کھلی آسمان تلے ہی گزاری۔

تین کروڑ آبادی والے ملک نیپال کے مقامی حکام نے 75 میں سے 35 اضلاع کے زلزلے سے متاثر ہونے کا بتایا ہے۔

زلزلے کی وجہ سے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ بھی لرز اٹھی اور یہاں برفانی تودے گرنے سے 18 کوہ پیما ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ بیس کیمپ سے متعدد افراد کو کٹھمنڈو منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس بدترین زلزلے سے بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے علاوہ چین کے علاقے تبت اور بنگلہ دیش میں بھی ہلاکتیں ہوئیں جن کی تعداد 62 ہو گئی ہے۔

نیپال میں گزشتہ 81 برسوں میں آنے والا یہ طاقتور ترین زلزلہ تھا۔ اس سے قبل 1934ء میں آنے والے 8.3 شدت کے زلزلے میں دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ سمیت متعدد ملکوں نے امدادی ٹیمیں متاثرہ ملک کے لیے روانہ کر دی ہیں اور وزیرخارجہ جان کیری کے مطابق امریکہ معاونت کے لیے نیپال کی حکومت سے قریبی رابطے میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG