رسائی کے لنکس

logo-print

سکیورٹی خدشات؛ نیدرلینڈز نے کئی سفارتی اہلکار واپس بلالیے


آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نیدرلینڈز میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ اسٹیف بلوک نے سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی وطن واپسی کی تصدیق کی ہے۔

نیدرلینڈز کی حکومت نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پاکستان میں واقع اپنے سفارت خانے میں تعینات بعض اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو وطن واپس بلالیا ہے۔

نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ اسٹیف بلوک نے پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کے بعض اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کی وطن واپسی کی تصدیق کی ہے۔

پیر کو ڈچ ریڈیو 'این پی او' سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ اسٹیف بلوک کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے نیدرلینڈز کے شہریوں اور سفارت کاروں کو سکیورٹی خدشات تھے جس پر کئی اہلکاروں اور سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو واپس بلایا گیا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سفارتی عملے کو دھمکیاں توہینِ رسالت کے الزام سے بری ہونے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو نیدرلینڈز میں پناہ دینے کے بعد موصول ہوئیں۔

وکیل سیف الملوک 31 اکتوبر کو آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے بعد بیرونِ ملک روانہ ہوگئے تھے کیونکہ ان کے بقول انہیں پاکستان میں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔

اپنی روانگی سے قبل سیف الملوک نے کہا تھا کہ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اسی لیے ملک سے باہر جا رہے ہیں تاکہ واپس آکر آسیہ بی بی کی قانونی جنگ لڑ سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت سے فوج کی سکیورٹی بھی مانگی تھی۔

اس سے قبل رواں ہفتے پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفارت خانے کے بند ہونے سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

پیر کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اسلام آباد میں واقع ڈچ سفارت خانہ غیر معینہ کے لیے بند ہونے کی اطلاعات آئی تھیں جس کے بعد سفارت خانے نے گزشتہ ہفتے تعمیراتی کام کے پیشِ نظر سفارت خانہ بند اور ویزہ سروسز معطل ہونے کی تصدیق کی تھی۔

تاہم سفارت خانے کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس وقت سفارت خانہ کام کر رہا ہے اور ویزہ سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں نیدرلینڈز کے سفارت خانے کے کھلا ہونے کی تصدیق کی تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے بعد مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس کے دوران تین روز تک ملک کی اہم شاہراہیں اور بڑے شہروں کے مرکزی مقامات کو دھرنوں کے ذریعے بند کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان کی حکومت نے مظاہرین کے مطالبے پر آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی جس پر مظاہرے ختم ہوگئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG