رسائی کے لنکس

کابل: ہوٹل حملے میں ہلاک ہونے والوں میں امریکی بھی شامل


کابل کے اس پر تعیش ہوٹل پر حملے کے بعد ایک سیکورٹی اہلکار گشت کر رہا ہے۔
کابل کے اس پر تعیش ہوٹل پر حملے کے بعد ایک سیکورٹی اہلکار گشت کر رہا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں تین امریکی شہری تھے، جو یا تو دوہری شہریت کے حامل تھے یا پھر افغان خاندانوں سے اُن کا تعلق تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے ایک لگژری ہوٹل پر طالبان کے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں امریکی شہری بھی شامل تھے۔ لیکن انہوں نے اس کی تعداد نہیں بتائی۔

اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 13 غیرملکی بھی شامل ہیں۔ جب کہ سیکیورٹی اہل کاروں نے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں ٹہرے ہوئے مہمانوں سمیت عملے کے تقریباً 150 افراد کو بحفاظت نکال لیا تھا۔

افغانستان کے دارالحکومت میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں حالیہ دہشت گرد حملے سے نجی سیکورٹی کمپنیوں کے کردار کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

فوجی دردیوں میں ملبوس پانچ دہشت گرد نگرانی کی دو چوکیوں سے گزرتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہو گئے جہاں اُنہوں نے 13 غیر ملکیوں سمیت 20 افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ یہ حملہ ہفتے کی رات 9 بجے شروع ہوا اور اتوار کی صبح تک جاری رہا۔

اس حملے کے بارے میں تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم منگل کے روز ہوٹل میں سیکورٹی حکام کا اہم اجلاس شروع ہوا جبکہ ہوٹل کی سیکورٹی پر معمور نجی کمپنی ’ کابل بلخ سیفٹی اینڈ سیکورٹی آرگنائزیشن‘ یعنی KBSS کے محافظ اپنی بندوقیں تھامے اجلاس کے ہال کے باہر کھڑے رہے۔

KBSS نے اس ہوٹل میں سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے تین ہفتے قبل ہی ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ تاہم کمپنی کے صدر سید رحیمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے کے حوالے سے فوراً کوئی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم تحقیقات کیلئے حکومت سے مکمل تعاون کریں گے۔ تاہم یہ حملہ کیسے ممکن ہوا، اس بارے میں فوری طور پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئیے۔‘‘

سیکورٹی سے متعلق ایک سینئر سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت اس نجی کمپنی کے محافظوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا، ’’حملے کے وقت نجی کمپنی کے 15 محافط ڈیوٹی پر تھے اور اُن میں سے کسی نے بھی دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یا تو سب کچھ ہوتا ہوا دیکھتے رہے یا پھر و ہ ڈر کر چھپ گئے۔‘‘

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے 2010 میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے نجی سیکورٹی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اُس وقت افغان حکومت کا کہنا تھا کہ نجی کمپنیوں میں 40,000 کے لگ بھگ افراد ملازم ہیں جو ہتھیاروں کی سمگلنگ اور شوٹنگ کے واقعات میں ملوث ہیں۔ تاہم بعد میں سفارتخانوں اور ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت پر معمور نجی سیکورٹی کمپنیوں کو استثنا دے دیا گیا تھا۔

زیادہ تر نجی سیکورٹی کمپنیاں خود افغان شہری چلا رہے تھے جن کے سرکاری محکموں، غیر ملکیوں اور سابق فوجی افسروں سے رابطے تھے۔

KBSS نے اپنی ویب سائیٹ پر بتایا ہے کہ وہ 2004 سے کام کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے اپنی ویب سائیٹ پر تعریفی اسناد بھی شائع کر رکھی ہیں جن میں سے کچھ یورپین یونین اور امریکی فوج کی طرف سے جاری کی گئی تھیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ تحقیقی اہلکار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اس نجی کمپنی نے اس ہوٹل میں سیکورٹی فراہم کرنے کا ٹھیکہ کیسے حاصل کیا تھا جو سرکاری ملکیت میں ہے اور یہ اب انٹر کانٹی نینٹل ہوٹلوں کی چین سے منسلک نہیں رہا ہے۔

افغان وزارت خزانہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ہوٹل کی انتظامیہ نے خود ہوٹل کی سیکورٹی کو نجی شعبے میں دینے کی درخواست کی تھی جسے قومی سلامتی کونسل نے منظور کر لیا تھا۔ تاہم ہوٹل کے منیجر یا قومی سلامتی کونسل نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

صدر اشرف غنی کے دفتر نے بھی اس بارے میں کوئی وضاحت کرنے سے انکار کیا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں تین امریکی شہری تھے، جو یا تو دوہری شہریت کے حامل تھے یا پھر افغان خاندانوں سے اُن کا تعلق تھا۔

XS
SM
MD
LG