رسائی کے لنکس

logo-print

نئی دہلی میں کم سن بچیوں سے جنسی زیادتی کے خلاف مظاہرے


دہلی میں جنسی زیادتی کے تازہ ترین واقعات کے بعد بھارتی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ حکومت عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات روکنے میں ناکام رہی ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کو مظاہرے ہوئے جن میں شہریوں نے حکومت سے گزشتہ ہفتے تین کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

جمعے کی شب نئی دہلی میں ایک پارک میں دو سالہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں ہفتے کی شام دو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔

بچی کے خاندان والوں نے بتایا کہ علاقے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ تھی جس دوران بچی لاپتا ہو گئی اور پھر تین گھنٹوں کے بعد انھیں یہ بچی گھر کے قریب ایک پارک سے بے ہوشی کی حالت میں ملی اور اس کے جسم سے خون رس رہا تھا۔

پولیس کے ڈپٹی کمشنر پشپندرا کمار نے کہا کہ دو مشتبہ افراد نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کر لیا ہے۔

دہلی میں جنسی زیادتی کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس کے بعد بھارتی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ حکومت عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات روکنے میں ناکام رہی ہے۔

ہفتے کو پولیس نے مشرقی دہلی میں ایک پانچ سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے شبہے میں شہر کے مضافات سے تین افراد کو بھی گرفتار کیا۔

ان واقعات سے ایک ہفتہ قبل ہی ایک ریلوے لائن کے قریب ایک چار سالہ بچی ملی تھی جسے جنسی زیادتی کے بعد بلیڈ سے زخمی کر کے پھینک دیا گیا تھا۔ وہ انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے۔

بھارتی حکومت نے 2012 میں ایک بس میں ایک 23 سالہ میڈیکل طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی اور اس کی موت کے بعد ملک میں جنسی تشدد سے متعلق جرائم کو سخت بنایا ہے۔

جنسی زیادتی کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے اور ایسے کیسز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نئی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔

بھارت کی نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو نے کہا ہے کہ صرف بھارت کے دارالحکومت میں 2014 میں 2,000 عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی اور گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے کیسوں سے اس مسئلے پر دوبارہ توجہ مرکوز ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG