رسائی کے لنکس

logo-print

عورتوں میں ایڈز کی روک تھام کے لیے نئی جل متعارف


اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے ایڈز اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایڈز کی وبا کو روکنے کے لیے ایک نئی ایجادکی رپورٹس کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق عورتوں میں ایڈز کے انفیکشن کو کم کرنے کے لیے ایک نئی تیار شدہ ویجائنل جل بہت مددگار ثابت ہوگی۔ یواین ایڈز کے ڈائریکٹر مائیکل سیڈیبے نے کہا ہے کہ اس جل کے ٹسٹ نتائج خواتین کے لیے بہت حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جل عورتوں کے لیے انفیکشن کے خطرے سے بچنے کے لیے پہلا آپشن ہوگی۔ یہ تبصرہ انہوں نے منگل کو ویانا میں عالمی ایڈز کانفرنس کے موقع پر کیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر مارگریٹ چن کا کہنا ہے کہ انکی تنظیم اس نئی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ دستیاب بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کرے گی کیونکہ کلینیکل ٹرائل کے بعد یہ پروڈکٹ محفوظ اور موثر نظر آتی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جل کو جسے مائکرو بائی سائڈ بھی کہا جاتا ہے کے موثر اور محفوظ ہونے کے تعین کےلیے ابھی مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ مزید تحقیق سے پہلے اسے پبلک تک پہنچانا درست نہ ہوگا۔

جنوبی افریقی محققین کا کہنا ہے کہ وہ عورتیں جو جنسی اختلاط سے پہلے یا بعد میں یہ جل جس میں ٹینو فاور نامی دوا شامل ہے ، استعمال کرتی ہیں ان میں انفیکشن کی شرح 50 فی صد کم ہوجاتی ہے۔ اس جل کا موازنہ ایک سال تک ایک پلسیبو جل سے کیا گیا ہے۔نئی جل کے تقریبا ڈھائی سال کے عرصےمیں استعمال میں انفیکشن کی شرح میں کمی 39 فی صد تھی۔

XS
SM
MD
LG