رسائی کے لنکس

logo-print

روسی اپوزیشن لیڈر نیولنی کی ٹیم اب سڑکوں پر اعلانیہ مظاہرے نہیں کرے گی


الیکسی نیولنی کے لئے ہونے والے مظاہرے کا ایک منظر: فائل فوٹو

روس میں صدر پیوٹن کے ایک بڑے ناقد اپوزیشن لیڈر الیکسی نیولنی کے حامیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روسی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کے بعد، ان کی ٹیم اب کوئی باضابطہ مظاہرہ نہیں کر پائے گی، لیکن غیر منظم اچانک احتجاج ہوتے رہیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق،نیولنی کے حامی لیتھوانیا میں مقیم، لیونِڈ وولکوو کا یہ بیان اس بات کا نیا اشارہ ہے کہ حکومت کی جانب سے قانونی کارروائیوں کی وجہ سے نیولنی کی تحریک کو مجبوراً اپنے لائحہ عمل پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔

نیولنی، صدر ولادی میر پیوٹن کے سب سے نمایاں ناقد ہیں اور فروری سے جیل میں بند ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ پولیس نے ان کے حق میں منعقد کئے جانے والے جلسے جلوسوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے ہزاروں حامیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔

امریکہ اور روس میں تناؤ کی وجہ کیا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:07 0:00

تھوڑا وقفہ دینے کے بعد، نیولنی کی ٹیم نے گزشتہ ماہ ایک مظاہرہ کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جیل میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے نیولنی کو مناسب طبی سہلوت فراہم کی جائے۔ تاہم، مظاہرے میں شریک ہونے والوں کی تعداد توقع سے کم تھی۔

رائٹرز کے مطابق، روس کی حکومت کی جانب سے نیولنی کے حامیوں کی تحریک کو شدت پسند قرار دیا جانے والا ہے، اور اسی وجہ سے ان کے حامی وولکوو کا کہنا ہے کہ باضابطہ مظاہروں کا امکان اب نہیں رہا۔

ولکوو نے ٹیلی گرام میسینجر سروس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے، " نئے مظاہرے اسی طریقہ کار کے مطابق نہیں ہو سکتے، جن کے ہم 2017 سے 2021 کے درمیان عادی رہے ہیں، جب مظاہرے کیلئے ایک تاریخ کا اعلان کیا جاتا تھا اور درجنوں شہروں میں انتظامات شروع ہو جاتے تھے۔"

تاہم، ان کا کہنا تھا، "چونکہ مظاہروں کی بنیادی وجوہات اپنی جگہ پر موجود ہیں، اسلئے مظاہرے ہوتے رہیں گے۔ مگر باقاعدہ انتظام کے بغیر کہیں اچانک ہی مظاہرے شروع ہو جائیں گے۔"

شکاگو یونیورسٹی کی جانب سے بدھ کے روز منعقد کئے گئے ایک ورچوئیل مباحثے میں، نیولنی کے حامی وولکوو نے پیش گوئی کی کہ روس میں اپوزیشن کے مظاہرے، تیونس میں 2011 میں ہونے والے ان مظاہروں سے مشابہہ ہوں گے، جن سے بالآخر ایک کہنہ مشق لیڈر کو اپنا منصب چھوڑنا پڑا تھا۔

رائے عامہ کا جائزہ لینے والے ایک آزاد و خود مختار ادارے، لیواڈا سینٹر کے جمعرات کے روز جاری کردہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے اپوزیشن لیڈر کیلئے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی شدت میں کمی آئی ہے۔ یہ حمایت اس سال جنوری میں 22 فیصد تھی، جو اپریل میں کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی ہے۔

نیولنی کے حامیوں نے تحریک کے مختلف علاقوں میں قائم دفاتر سے کام کرنا عارضی طور پر بند کر دیا ہے، کیونکہ ان کی حکومت مخالف تنظیم کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کیا جارہا ہے۔ تاہم، وولکو کا کہنا ہے کہ حکومت مخالفین میں نیولنی کی حمایت میں دوبارہ مجتمع ہونے کی اہلیت ہے۔

نیولنی اس وقت اپنے پیرول کی خلاف ورزی کے الزامات پر ڈھائی سال کی جیل کاٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG