رسائی کے لنکس

logo-print

دماغ کے ’نیوی گیشن نظام‘ کی تحقیق پر نوبیل پرائز


منگل کو فزکس میں ’نوبیل پرائیز‘ کا اعلان ہوگا، بدھ کو کیمسٹری، جمعرات کو ادب اور جمعے کو امن کے نوبیل پرائیز کا اعلان کیا جائے گا

دماغ کے داخلی ’نیوی گیشن‘ نظام کا کھوج لگانے پر، امریکی نژاد برطانوی سائنس داں، جان اوکیفے اور ناروے سے تعلق رکھنے والے مئی بِرٹ موزر اور ایڈوارڈ موزر کو ’طبی‘ میدان میں ’نوبیل انعام‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اِس بات کا اعلان سویڈن کے’کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ‘ نے پیر کے روز کیا۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’نوبیل پرائیز‘ جیتنے والوں نے اس بات کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے کہ جب مشکل ماحول درپیش ہو، تو دماغ کا کونسا حصہ متحرک ہوکر مقام یا سمت کا تعین کرتا ہے۔

اوکیفے نے سنہ 1971میں اندرونی نقشہ تشکیل دینے کی صلاحیت کے نظام کا پتا لگایا، جس میں یہ معلوم ہوا کہ چوہے کے دماغ کے پیغام رسانی کے کچھ مخصوص خلیے اُس وقت متحرک ہوتے ہیں جب وہ کسی کمرے میں کسی خاص مقام پر پہنچتا ہے، جب کہ دماغ کے پیغام رسانی والے دیگر خلیے دوسرے وقت متحرک ہوتے ہیں۔
سنہ 2005میں، موزر میاں بیوی نے چوہے کے دماغ کے ایک اور قریبی حصے کے خلیے کی شناخت کی، جس سے ’گِرڈ سسٹم‘ تشکیل پاتا ہے اور نقشہ بنانے والے خلیوں کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے دماغ میں سمت کے تعین کا نظام بیدار ہوکر نتائج دیتا ہے۔

مزید تسخیر سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اِسی طرح کے خلیے انسانی دماغ میں بھی موجود ہیں۔

نوبیل پرائیز کے پینل کا کہنا ہے کہ دریافت کے اس باعث دماغی سرگرمی کو سمجھنے کی نئی راہیں کھل گئی ہیں، جِن میں یادداشت، سوچ اور منصوبہ بندی سے متعلق دریچے کھل گئے ہیں۔
انعام کے ساتھ نقدی میں 11 لاکھ ڈالر کی رقم شامل ہوتی ہے، جِس میں سے نصف اوکیفے اور باقی نصف موزرز کو دیا گیا ہے۔

منگل کو فزکس میں ’نوبیل پرائیز‘ کا اعلان ہوگا، بدھ کو کیمسٹری، جمعرات کو ادب اور جمعے کو امن کے نوبیل پرائیز کا اعلان کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG