رسائی کے لنکس

فرانسیسی، امریکی اور آسٹرین طبیعات دانوں کے لیے فزکس کا نوبیل انعام


تینوں سائنس دانوں کو ایٹمی ذرات پر تجربات کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
تینوں سائنس دانوں کو ایٹمی ذرات پر تجربات کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

رائل سوئیڈش اکیڈمی نےطبیعات کے میدان میں نمایاں خدمات پر تین سائنس دانوں کو نوبیل پرائز دینے کا اعلان کردیا ہے۔

اعزاز حاصل کرنے والے تین سائنس دان ایلین آسپیکٹ، جون کلازر اور اینٹون زائلینگر کو زیر جوہری یا سب اٹامک ذروں پر کیے گئے تجربات پر یہ انعام دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں اکیڈمی کا کہنا ہے کہ ان کے تجربات کوانٹم انفارمیشن کی سائنس کے لیے نقطۂ آغاز ثابت ہوئے ہیں۔

نوبیل انعام برائے طبیعیات جیتنے والے ایلین آسپیکٹ کا تعلق فرانس ، جون کلازر کا تعلق امریکہ اور اینٹون زائلینگرکا تعلق آسٹریا سے ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے اس اعلان کے مطابق ان طبیعیات دانوں کے تجربات نے زیرِ جوہری یا سب اٹامک ذروں مطالعے کے ذریعے سپر کمپیوٹر اور محفوظ انداز میں معلومات کی ترسیل(انکرپیٹڈ کمیونیکیشن) کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔

کوائنٹم فزکس مادے اور توانائی کی بالکل بنیادی سطح پر مطالعے سے متعلق طبیعیات کی شاخ ہے۔ اس کے تحت ایٹم اورایٹم کے اندر پائے جانے والے ذرات کی سطح پر مادے اور توانائی کی نوعیت اور طرزِ عمل کو بیان کیا جاتا ہے۔

سال 2022 میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں نے اپنے تجربات میں توانائی رکھنے والے روشنی کے بنیادی ذرات فوٹون پر تجربات کیے۔ ان تجربات میں دیکھا گیا کہ ایک ہی لیزر سے نکلنے والے دو یا دو سے زائد فوٹون الگ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔

گزشتہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عالمی سطح پر معتبر سمجھنے جانے والے نوبیل انعام کے ساتھ اعزاز جیتے والوں کو رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے 9 لاکھ ڈالر سے زائد رقم بھی بطور انعام دی جائے گی۔

ہر سال یہ انعام سائنس، ادب اور امن کے فروغ جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام کرنے والے افراد کو دیاجاتا ہے۔

دھماکہ خیز مواد ’ڈائنامائٹ‘ ایجاد کرنے والے سوئیڈش موجد الفریڈ نوبیل کی وصیت کے بعد یہ انعام 1901 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے کچھ وقفوں اور دو عالمی جنگوں کے باعث آنے والے تعطل کی وجہ سے یہ ایوارڈ ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

فزکس کے شعبے میں معروف سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن، میکس پلانکس، پیری کیوری اور مادام کیوری جیسے نام بھی شامل ہیں۔ ان سائنس دانوں کی تحقیق اور پیش کیے گئے نظریات نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں کئی انقلاب برپا کیے۔

XS
SM
MD
LG