رسائی کے لنکس

logo-print

تین ارب پرندے کہاں چلے گئے؟


سورج غروب ہونے کے وقت کیلی فورنیا کے ساحل پر اڑنے والے پرندے۔

گزشتہ پانچ عشروں کے دوران شمالی امریکہ میں پرندوں کی تعداد میں تین ارب کے لگ بھگ کمی آ چکی ہے۔ ماہرین اسے خطرے کی ایک علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

قدرتی نعمتوں سے مالامال براعظم شمالی امریکہ میں خوش رنگ اور خوش الحان پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں اکثر گھروں کی صبحیں پرندوں کی سریلی آوازوں اور چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں کے پچھلے صحن میں پرندوں کی خوراک کی چھوٹی چھوٹی خوبصورت ٹوکریاں رکھی ہوئی ہیں۔

لیکن گزشتہ کئی برسوں سے یہ منظر نامہ بدل رہا ہے۔ اب پرندوں کے وہ غول اور جھنڈ نظر نہیں آتے جو ماضی میں دکھائی دیتے تھے۔ اب گھر کے صحن میں دانہ دنکا چگنے والے پرندے بھی گھٹ گئے ہیں۔ بلکہ اکثر علاقوں میں تو وہ سرے سے دکھائی ہی نہیں دیتے۔

ایک فاختہ فوارے کے تالاب سے اپنی پیاس بجھا رہی ہے۔
ایک فاختہ فوارے کے تالاب سے اپنی پیاس بجھا رہی ہے۔

آخر وہ پرندے کہاں چلے گئے۔ آیا انہوں نے اپنے ٹھکانے بدل لیے، یا ان کے ساتھ کوئی انہونی ہو گئی۔ پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سائنس دان اس صورت حال کی ایک افسوس ناک تصویر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پرندے مر رہے ہیں، ان کی کئی نسلیں ختم ہو گئی ہیں اور کئی اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 50 برس کے عرصے میں امریکہ اور کینیڈا میں پرندوں کی تعداد میں تین ارب تک کی کمی آ چکی ہے۔ جو اس علاقے میں پائے جانے والے پرندوں کی کل آبادی کا لگ بھگ 29 فی صد ہے۔

سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ پرندوں میں بڑے پیمانے پر کمی کا تعلق فی الحال کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور آب و ہوا کی تبدیلی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ماحول اب بھی پرندوں کی افزائش نسل کے لیے ساز گار ہے۔

چند آبی پرندے
چند آبی پرندے

پرندوں کو خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ خود حضرت انسان سے ہے۔ انسان اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کرہ ارض کی قدرتی حالت کو تبدیل کر رہا ہے۔ جہاں کبھی گھنے جنگل تھے، وہاں شہر اور کالونیاں بس گئی ہیں۔ درخت کاٹ کر زرعی فارم بنا لیے گئے ہیں۔ اب زیادہ تر لینڈ اسکیپ قدرت کا بنایا ہوا نہیں رہا بلکہ اب یہ انسان کا اپنا تخلیق کردہ ہے۔

فصلوں کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے کیمکلز اور کیڑے مار ادویات کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے اور انسان یہ بھول گیا ہے کہ ان میں سے اکثر کیڑے مکوڑے پرندوں کی من بھاتی خوراک تھے۔ جب کھانے کو ہی کچھ نہ رہا، جب وہ درخت اور پودے ہی نہ رہے جو پرندوں کی ضرورت اور مزاج کے مطابق گھونسلے بنانے اور نسل بڑھانے کے لیے موزوں تھے تو پھر بھلا پرندے کہاں رہیں گے۔ کچھ اپنے انڈے سہے بغیر بے اولاد مر کھپ گئے۔ کچھ نے کہیں اور کی راہ لی، کسی اور جانب نکل گئے۔

امریکی پرندوں کے تحفظ اور مطالعے کی کارنل لیب کے ایک سینئر سائنس دان کین روزن برگ کا کہنا ہے کہ پرندوں کی بہت سی اقسام اس تبدیلی کو قبول نہیں کر پا رہیں جس کا نتیجہ ان کی تعداد میں کمی کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ کمی پرندوں کے تمام گروپس میں ہو رہی ہے۔

نیویارک میں ایک پودے پر بیٹھی ہوئی ایک چڑیا اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہی ہیں۔
نیویارک میں ایک پودے پر بیٹھی ہوئی ایک چڑیا اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہی ہیں۔

پرندوں کی تیزی سے گھٹتی ہوئی تعداد پر کارنل لیب کے ایڈریان ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ایک خطے سے دوسرے خطے کا سفر کرنے والے پرندوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں 14 فی صد تک کمی آ چکی ہے۔

پرندوں کی آبادیوں میں یہ انحطاط صرف براعظم شمالی امریکہ تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے پرندے کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں۔ یورپ کے ایک سائنس دان گریگوری اور اس کی ٹیم نے 2014 میں اپنی ریسرچ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ 30 سال کی مدت میں یورپ بھر میں پرندوں کی تعداد میں 42 کروڑ سے زیادہ کی کمی ہو چکی ہے، جب کہ حال ہی میں جرمنی کے سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع جھیل کونسٹنس میں تین عشرے قبل کے مقابلے میں اب 25 فی صد کم پرندے دیکھے جا رہے ہیں۔

امریکہ کا مشہور گنجا عقاب اپنے شکار کی تلاش میں۔
امریکہ کا مشہور گنجا عقاب اپنے شکار کی تلاش میں۔

پرندوں کی تعداد اتنی تیزی سے گھٹ رہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ دوسری جانب ان کے تحفظ کے لیے ابھی تک سنجیدگی سے کچھ سوچا بھی نہیں جا رہا۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک اور رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگلی فاختائیں جن کے غول امریکہ کے آسمانوں کو سیاہ کر دیا کرتے تھے، آئندہ چند عشروں میں ہم انہیں صرف ویڈیوز میں ہی دیکھ سکیں گے۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ایک سائنس دان کیگن سیکر سیوگلو کا کہنا ہے کہ پرندوں کی آبادی کا کم ہونا یا ان کی نسلوں کے معدوم ہونے کا نقصان صرف یہ نہیں ہے کہ ہم آسمانوں میں ان کے خوشنما رنگوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے یا ہمارے کان ان کی سریلی چہچاہٹ اور گانوں سے محروم ہو جائیں گے بلکہ اس کا سب زیادہ نقصان ہمارے قدرتی ماحول کو پہنچے گا۔ اکثر پرندے درختوں اور پودوں پر لگے پھلوں کو توڑ کر ان کے بیج کھاتے ہیں۔ اس دوران بہت سے بیج زمین پر بھی گر جاتے ہیں جن سے وہ پودے اور درخت دوبارہ اگ آتے ہیں۔ پرندے نہیں ہوں گے تو درختوں کی ان اقسام کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

کچھ پرندے پھولوں کا زرگل دوسرے پودوں تک منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں جس سے پودے بار آور ہو جاتے ہیں اور ان پر پھول اور پھل آتے ہیں۔ کچھ پرندے شکار کرتے ہیں اور کچھ پرندے شکار بنتے ہیں۔ اس طرح قدرت کے اس نظام میں توازن قائم ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی سے اس توازن میں خلل پڑ سکتا ہے۔

فلاڈلفیا میں پایا جانے والا ایک پرندہ کنگ فشر۔
فلاڈلفیا میں پایا جانے والا ایک پرندہ کنگ فشر۔

تاہم اس تحقیق سے کچھ روشن پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبی پرندوں کی افزائش میں، جن میں مرغابیوں کی کئی اقسام شامل ہیں ، بہتری آئی ہے۔ اس کا کریڈٹ ان گروپس کو جاتا ہے جو دنیا بھر میں ان کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح عقاب کی کئی اقسام جنہیں دنیا سے مٹنے کے خطرات لاحق تھے، خطرے سے باہر نکل آئی ہیں۔

پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک اور سائنس دان پیرر کہتے ہیں کہ مرغابیوں اور عقابوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہم ان پرندوں کی نسلیں بھی محفوظ کر سکتے ہیں جن کی آبادیاں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اگر 50 سال میں تین ارب پرندے غائب ہو سکتے ہیں تو اگلے سو یا ہزار سال میں کیا ہو گا؟

ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ مستقبل کے لیے ہم کیسی دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کیا ایک ایسا کرہ ارض جس کے آسمانوں پرخوش رنگ پرندے اڑان نہ بھر رہے ہوں اور ہمارے کان ان کی مدھر اور سریلی موسیقی سے لطف اندوز نہ ہو رہے ہیں۔ اگر ہم یہ نہیں چاہتے تو پرندوں کو بچانے کے لیے ہمیں ابھی سے کام شروع کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG