رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے ناروے کی پیشکش


ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ۔ فائل فوٹو

ناروے کی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی سے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں ملک دفاع پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔

ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے پیر کے روز بھارت کے سرکاری دورے کے دوران کہا ہے کہ اگر بھارت اور پاکستان چاہیں تو ناروے کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔

ناروے کی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی سے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں ملک دفاع پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔

ناروے نے گزشتہ چند برسوں کے درمیان متعدد عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جن میں فلسطین اور سری لنکا میں جاری تنازعات بھی شامل ہیں۔ ناروے کے سابق وزیر اعظم جیل میگنے بانڈیوک نے گزشتہ برس نومبر میں سری نگر کا خاص طور پر دورہ کیا تھا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ ناروے کشمیر کے مسئلے پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بھارت میڈیا کے مطابق ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے آج نئی دہلی میں ناروے کے سفارتخانے کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے باہر سے کوئی بھی شخص اس مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کر سکتا۔ تاہم اگر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے سے اس مسئلے پر بات چیت کرنا چاہیں تو ناروے یقیناً ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم اُنہوں نے کہا کہ اس بارے میں اُن کی حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے اور اگر ناروے کو اس مسئلے کے بارے میں کوئی کردار ادا کرنا ہے تو متعلقہ ممالک کو اس کیلئے قدم اُٹھاتے ہوئے درخواست کرنا ہو گی۔

وزیر اعظم سولبرگ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان بڑے ملک ہیں اور وہ اس بات کو خود یقینی بنا سکتے ہیں کہ دیگر ممالک کی مدد کے بغیر اپنے درمیان تناؤ کم کریں ۔

جب اُن سے سابق وزیر اعظم بانڈیوک کے دورہ سری نگر کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ اُنہوں نے یہ دورہ ذاتی حیثیت میں کیا اور یہ ناروے کے کسی سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔

سولبرگ نے اعتراف کیا کہ سری لنکا میں ناروے کی ثالثی کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئی تھیں اور جس انداز میں سری لنکا میں جاری تنازعے کا اختتام ہوا ، اُنہیں اس کا افسوس ہے۔

سولبرگ کا کہنا تھا کہ چاہے مسئلہ کشمیر ہو یا شام کا مسئلہ، ان کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔ لہذا بھارت اور پاکستان کو مذاکرات شروع کرنے کا وقت طے کر لینا چاہئیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG