رسائی کے لنکس

جوہری سلامتی پر پیش رفت حوصلہ افزا: اوباما


منگل کے روز ہیگ میں منعقدہ دو روزہ سمٹ اجلاس اختتام کو پہنچا؛ جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں متعین کردہ اہداف کا اعلان کیا گیا۔ اس باضابطہ تقریب سے امریکی صدر نے بھی خطاب کیا

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ جوہری سلامتی پر ہونے والا تیسرا سربراہ اجلاس کئی اعتبار سے کامیاب رہا، خاص طور پر شریک ممالک کے علاوہ دیگر ملکوں کی طرف سے اس یقین دہانی کی بنا پر کہ دنیا کو جوہری مواد، پلوٹینیئم اور تابکار جوہری اثرات سے محفوظ بنانا سب اقوام کی ذمہ داری ہے۔

منگل کے روز ہیگ میں منعقدہ دو روزہ سمٹ اجلاس اختتام کو پہنچا؛ جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں مقررہ اہداف کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس باضابطہ تقریب سے امریکی صدر نے خطاب کیا۔

بعدازاں، صدراوباما اور نیدرلینڈ کے وزیر اعظم، مارک روٹے نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

صدر اوباما نے کہا کہ مقررہ اہداف کے حصول کے لیے شرکا کے علاوہ دیگر ممالک کےرہنماؤں نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ یورینئیم کی افزودگی کو کم درجے پر رکھا جائے گا، تاکہ اس مواد کی چوری یا غلط ہاتھوں میں جانے کے امکان کی صورت میں، اس سے جوہری ہتھیار نہ بنائے جاسکیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ 2010کی پہلی جوہری سمٹ کے مقابلے میں دوسری اور اب تیسری کانفرنس میں ایک ’واضح پیش رفت سامنے آئی ہے‘، اور اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل افزدہ یورینیئم ’غلط ہاتھوں‘ میں جانے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر اوباما نے کہا کہ بہت سے ممالک نے جوہری سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے اورجوہری مواد سے واسطہ رکھنے والے اہل کاروں کی تربیت کا اہتمام کرنے کے سلسلے میں پیش رفت دکھائی ہے۔

ہالینڈ کے وزیر اعظم، مارک روٹے نے بھی جوہری مواد کے تحفظ کے سلسلے میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کی بات کرتے ہوئے، اسے خوش آئند قرار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل مٹیریل کو محفوظ بنانا اہمیت کا حامل معاملہ ہے، جس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا عزم خوش آئند ہے۔

وزیر اعظم مارک روٹے نے کہا کہ اگلا اجلاس 2016میں شکاگو میں ہوگا، اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس وقت تک مزید پیش رفت ممکن ہوگی۔
XS
SM
MD
LG