رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ: حصہ دوم


روس کا ٹی 50 سٹیلتھ جنگی طیارہ

کیا پاکستان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے؟

گزشتہ مضمون میں ہم نے بھارت کی دفاعی حکمت عملی کا جائزہ لیا تھا۔ مستقبل میں بھارت اپنی حربی قوت میں اضافے کیلئے Fifth Generation Fighter Aircraft یعنی FGFA کی تیاری کیلئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نظر ثانی کی گئی ہے اور روس کے تعاون سے تیار کئے جانے والے اس انتہائی جدید نوعیت کے stealth بمبار جہاز کی تیاری کے ٹائم فریم میں کمی کی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت بھارت نے تیاری میں 50 فیصد بھارتی شمولیت کی شرط کو بھی نرم کر دیا ہے اور اب ان جہازوں کی پہلی کھیپ مکمل طور پر روس میں ہی تیار کی جائے گی۔ دفاعی ماہرین ان جہازوں کی بھارتی فضائیہ میں متوقع شرکت کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں ۔ اُن کے خیال میں ان جہازوں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں جنگ کے خطرات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس قدر جدید جنگی جہازوں کے حصول سے اُنہیں استعمال کرنے کی ترغیب بھی بڑھ سکتی ہے۔

افغانستان میں 31 مئی کو ایک بڑا دہشت گرد حملہ ہوا
افغانستان میں 31 مئی کو ایک بڑا دہشت گرد حملہ ہوا

اُدھر افغانستان میں بدامنی کی صورت حال خانہ جنگی کی کیفیت اختیار کر سکتی ہے۔ داعش نے وہاں قدم جمانے شروع کر دئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے دفاعی ماہرین کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ رفتہ رفتہ اس ملک کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

بھارتی بحریہ کی پہلی سکارپیو آبدوز
بھارتی بحریہ کی پہلی سکارپیو آبدوز

تاہم پاکستان کے کئی دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ بھارتی بحریہ کی طرف سے ہے جو جدید ایٹمی آبدوزوں کی متوقع شمولیت کے بعد مزید طاقتور ہو جائے گی۔ وہ ماضی میں پاک۔بھارت جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1965 کی جنگ کے دوران انڈونیشیا کی بحریہ نے پاکستان کی مدد کرتے ہوئے بھارتی بحریہ کی جانب سے اُس وقت کے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان رابطہ منقطع کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا۔ تاہم 1971 کی جنگ میں بھارتی بحریہ پاکستان کی ناکہ بندی کرنے میں کامیاب رہی تھی اور یوں مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کو کمک پہنچانا ممکن نہیں رہا تھا۔ اب جدید ترین جنگی جہازوں اور ایٹمی آبدوزوں کی دستیابی سے بھارتی بحریہ پاکستانی بحریہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے اور مستقبل میں کسی جنگ کی صورت میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان۔چین راہداری کے منصوبے سے بھی بھارت بڑی حد تک گھبراہٹ کا شکار ہے۔بھارتی لیڈروں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان میں چین کا اثرورسوخ بڑھتا جائے گا ۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ کاروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ گوادر میں چین اپنا بحری اڈا قائم کر لے گا جس سے اس خطے میں طاقت کا توازن بھارت کے خلاف ہو جائے گا۔

اس صورت حال کے توڑ کیلئے بھارت سمجھتا ہے کہ اُس کی امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں توازن کو یکسر بدلنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تاہم امریکہ کا پاکستانی مسلح افواج سے تعاون اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے۔

پاکستان کا راعد کروز میزائل
پاکستان کا راعد کروز میزائل

اس ساری صورت حال کے تناظر میں پاکستان نے بھی روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کو جدید بنانے کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔ لیکن بھارت کے برعکس پاکستان کو سلامتی کے چیلنجوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی عدم استحکام کا بھی سامنا ہے۔ ایسی ریاستیں جو معاشی طور پر مستحکم ہیں، اُن میں ہتھیاروں کو جدید بنانے کا رجحان مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ امریکہ اور چین ایسے ممالک کی مثالیں جن کی معیشت مضبوط ہے۔ لہذا جدید ہتھیاروں کی تیاری سلامتی کے مسائل سے یکسر مختلف ہے۔ بھارت بھی ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں معیشت خاصی حد تک مستحکم ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ بھی ایسا ہی ماڈل اپنائے۔ لیکن پاکستان اور چین کے ساتھ محاذآرائی کی وجہ سے اُس کی ترجیحات مختلف ہیں۔

پاکستان کو سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹتے ہوئے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کی کوششوں میں خطے سے باہر کے ممالک کی مدد بھی درکار ہے اور پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو نئی شراکت داریوں میں داخل ہونا ہو گا ۔ پاکستان میں اب یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ سے مدد کی توقعات پوری ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت سے نیٹو کی طرز پر اسلامی ممالک کے اتحاد کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں جس میں چین کیلئے ایک مؤثر کردار موجود ہو۔ اس کے علاوہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے پاکستان نے روس جیسے دیگر ممالک سے تعاون بڑھانے کی پالیسی بھی اپنائی ہے۔یوں اس خطے میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں لیکن بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کے تعاون سے بننے والے اسلامی اتحاد کے نتیجے میں پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

لہذا سوال یہ ہے کہ ان تمام کوششوں سے پاکستان کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ بظاہر یوں لگتا ہے کہ پاکستان بھارت کی حربی قوت میں مسلسل اضافے کے جواب میں کسی ایسے حل کیلئے کوشاں ہے جو اُس کے دستیاب مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورا کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے کروز میزائل کا نظام تشکیل دیا ہے اور اب یہ سوپر سونک جہازوں کی تیاری کیلئے منصوبہ کررہا ہے تاکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کا اسٹریٹجک بنیادوں پر مقابلہ کر سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے محدود طاقت کے جوہری ہتھیار تیار کر رکھے ہیں اور حالیہ برسوں میں دیکھا گیا کہ ان کی وجہ سے بھارت کی جانب سے کسی بڑی جنگ کا ہونا ممکن نہیں رہا ہے۔ یوں پاکستان کی دفاعی حکمت عملی روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی مشترکہ جدیدیت پر مبنی ہے۔

ان حالات میں بھارت کی حکمت عملی یہ ہے کہ جوہری حدود سے نیچے رہتے ہوئے محدود پیمانے کی جنگی کارروائیاں کی جائیں لیکن دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایسی حکمت عملی دیر پا ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ دونوں جانب ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں بارے میں شفافیت موجود نہیں ہے اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ بھارت ایسی کسی کارروائی میں کوئی ریڈ لائن پار کر جائے۔ پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ سلامتی کے شدید خطرات کی صورت میں دفاعی ہتھیاروں کے استعمال کی پالیسی اور جوہری ڈیٹرنس میں توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

گزشتہ برس سے بھارت نے ایک اور حکمت عملی اپنائی ہے جس میں اُس نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار پاکستانی علاقے میں سرجیکل اسٹرئیک کرنے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ نہ تو ہوا ہے اور نہ ہی بھارت کی طرف سے ایسا کرنا ممکن ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے ملک کے اندر اور دنیا بھر میں حربی معاملوں میں کنفیوژن کی فضا پیدا کرنے کی دانستہ کوشش ہے جس میں بھارت کو طاقتور جتایا جائے اور پاکستان کو کمزور۔

ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ بھی حقیقت ہے کہ فی الوقت پاکستان کے تمام اہم ہمسائیوں سے تعلقات کشیدہ ہیں جن میں بھارت کے علاوہ افغانستان اور کسی حد تک ایران بھی شامل ہیں۔ افغانستا ن کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ کچھ عرصے سے ہونے والے دھماکوں کے سلسلے میں افغانستان مسلسل پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ہے۔ پاکستان کو بھی گزشتہ دو عشروں کے دوران انتہائی شدید نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا رہا ہے ۔ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور اب موجودہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں میں پاکستان کو دہشت گردی پر قابو پانے میں خاصی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم فرقہ وارانہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اُٹھانے کے امکانات بدستور موجود ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستانی قیادت سعودی عرب کی حمایت میں اسلامی ممالک کے اتحاد کی تشکیل کیلئے کوشاں ہے جسے بعض حلقے ایران کے خلاف محاذآرائی بڑھانے کی کوششیں بھی قرار دے رہے ہیں۔

یوں ایسے حالا ت میں بھارت کے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز سے وابستہ بریگیڈئر ریٹائرڈ گرمیت کنول کا یہ کہنا لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان اندرونی طور پر شکست و ریخت کے ایسے عمل سے دوچار ہے جو اسے مکمل تباہی کی جانب لے جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG