رسائی کے لنکس

logo-print

ہائی اسکول کے معیار تعلیم میں بہتری لائی جائے: اوباما


صدر اس بات کے خواہاں ہیں کہ ’نو چائلڈ لیفٹ بہائینڈ‘ قانون کی جگہ ایک متبادل نظام فراہم کیا جائے، جس میں معیاری ٹیسٹ کے نام پر غیر ضروری سخت روی کو ختم کیا جائے اور ، اصل سرمایہ کاری ’پری اسکول سطح‘ پر کی جا سکے

امریکی صدر براک اوباما نے تعلیم کا ایک ایسا منصوبہ تجویز کیا ہے جس کے ذریعے یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ اسکول سے فارغ التحصیل ہونے والے بچے اس قابل ہوں کہ وہ کالج تعلیم اور مستقبل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب تک کے اعداد کے مقابلے میں، امریکی ہائی اسکول کے گریجوئیٹس کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔
تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اس اکیسویں صدی کی معشیت میں طالب علم بہتر کارکردگی تب ہی دکھا سکتے ہیں، جب تک اس بات کو یقینی نہ بنایا جائے کہ پہلے کے مقابلے میں اُن کا تعلیمی معیار بہتر ہے۔

صدر نے کہا کہ وہ اس سال کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ ’نو چائلڈ لیفٹ بہائینڈ‘ نام کے قانون کی جگہ ایک متبادل نظام فراہم کیا جائے، جس میں معیاری ٹیسٹ کے بلاجواز استعمال کے معاملے کو نظر میں رکھا جائے گا، پری اسکول سطح پر اصل سرمایہ کاری کی جاسکے گی اور ہر طالب علم کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معشیت کو بڑھاوا دینے میں حصہ دار بنے۔

مسٹر اوباما نے ریپبلیکن کی قیادت والے کانگریس کی طرف سے پیش کیے جانے والے تعلیمی بِل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے اسکولوں کے لیے مختص رقوم میں اگلے عشرے تک کٹوتیاں جاری رہیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسی قانون سازی کو اختیار کیا جاتا ہے تو 2021ء میں تعلیم کے لیے 2012ء سے بھی کم رقوم میسر ہوں گی۔

گذشتہ ہفتے، تعلیم سے متعلق ایوان کی کمیٹی کے ریپبلیکن ارکان نے ایک ایسے بِل کا مسودہ پیش کیا ہے، جس کی رو سے ریاستیں ناکام اسکولوں کی اصلاح سے متعلق خود ہی فیصلہ کر سکیں گی، جن کے لیے مقامی گرانٹ کا ایک لچک دار پروگرام لاگو ہوگا۔

اس قانون سازی کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سنہ 2002 میں صدر جارج بش کی میعاد کے دوران دونوں ایوانوں کی طرف سے منظور کردہ ’نو چائلڈ لیفٹ بہائینڈ‘ میں بہتری لائی جاسکے گی۔

XS
SM
MD
LG