رسائی کے لنکس

logo-print

موٹاپا ایک بیماری ہے: امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن


عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق ہر برس عالمی سطح پر 28 لاکھ افراد موٹاپے کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

امریکہ میں ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنطیم امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن سے منسلک طبی ماہرین نے موٹاپے کو ایک بیماری قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ تنظیم کے سالانہ اجلاس میں رواں ہفتے کیا گیا، جس کے بعد موٹاپے سے متعلق تحقیق کرنے اور فربہ لوگوں کو موٹاپے کے علاج کے لیے انشورنس حاصل کرنے میں مدد کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

ڈاکٹروں کی اس تنظیم کے مطابق موٹاپا ایک ایسی بیماری ہے جس کے علاج اور تدارک کے لیے بہت سی طبّی سہولیات کا میسر ہونا ضروری ہے۔ صحت ِ عامہ سے متعلق بہت سی انشورنس کمپنیاں ماہر ِ غذائیت یا موٹاپے کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کی سہولت فراہم نہیں کرتیں۔

امریکی ادارہ برائے تدارک ِ امراض کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 1997 سے 2012 تک امریکہ میں موٹاپے کی شرح میں 50٪ اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق امریکہ میں بالغ افراد میں سے 30٪ موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ امریکی بچوں میں موٹاپے کی شرح میں گذشتہ 30 برسوں میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق ہر برس عالمی سطح پر 28 لاکھ افراد موٹاپے کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن سے منسلک ڈاکٹر پیٹریس ہیرس کہتے ہیں، ’اس بات کو ماننا کہ موٹاپا ایک بیماری ہے، صحت ِ عامہ سے منسلک افراد کو اس مسئلے سے زیادہ بہتر طور سے نمٹنے میں مدد دے گی۔ اس وقت ہر تین میں سے ایک امریکی موٹاپے کا شکار ہے۔‘

ماہرین ِ صحت کہتے ہیں کہ موٹاپے کی وجہ سے انسان دل کی بیماری، فالج کا حملہ، بلند فشار ِ خون اور ذیابیطیس جیسے امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف موٹاپا انسان میں کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
XS
SM
MD
LG